Pakistan

سپریم کورٹ نے ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے 8 اہم قانونی اصول طے کردیے

سپریم کورٹ نے ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے 8 اہم قانونی اصول طے کردیے
۱ منٹ پہلے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے سے متعلق 8 اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کن حالات میں کسی ملزم کو دی گئی ضمانت واپس لی جاسکتی ہے۔ 

جسٹس محمد علی مظہر کے تحریر کردہ فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ اگر ضمانت کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی یا ناانصافی پر مبنی ہو، یا ملزم ضمانت کی رعایت کا ناجائز استعمال کرے تو اس کی ضمانت منسوخ کی جاسکتی ہے۔ 

عدالت عظمیٰ کے مطابق استغاثہ کے گواہوں پر دباؤ ڈالنا، شواہد پر اثرانداز ہونے یا عدالتی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرنا بھی ضمانت کی منسوخی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ 

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر ملزم کے عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر فرار ہونے کا خدشہ ہو تو بھی ضمانت منسوخ کی جاسکتی ہے۔ 

اسی طرح شفاف تفتیش میں مداخلت، آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی نوعیت کے دوسرے جرم کا ارتکاب کرنا، یا دوران تفتیش ایسے نئے حقائق اور شواہد سامنے آنا جو ملزم کے مبینہ جرم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کریں، ضمانت کی منسوخی کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔ 

سپریم کورٹ نے متعلقہ مقدمے میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ضمانت کے خلاف دائر اپیل خارج کردی۔ 

مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق لاڑکانہ کے تھانہ رحمت پور کی حدود میں ایک واقعہ پیش آیا تھا، جہاں ڈسپوزل فیز سے خصوصی لائن کھینچ کر دکانوں کو بجلی فراہم کی جارہی تھی۔ 

اس دوران بجلی کی تار ٹوٹنے سے نور حسین نامی شخص جاں بحق ہوگیا، جس کے بعد متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔ 

سیشن جج لاڑکانہ نے 30 جنوری 2025 کو ملزم علی اصغر کھوکھر کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد کردی تھی۔ 

تاہم سندھ ہائیکورٹ سرکٹ کورٹ لاڑکانہ نے 20 اکتوبر 2025 کو ایف آئی آر کے اندراج میں 9 ماہ کی تاخیر اور دیگر قانونی نکات کی بنیاد پر ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔ 

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور ملزم کے مبینہ کردار سے متعلق معاملات مزید تحقیق کے متقاضی ہیں۔ 

عدالت عظمیٰ نے ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور ضمانت کے خلاف اپیل خارج کردی۔ 

سپریم کورٹ نے فیصلے کی نقل معلومات کے لیے چیئرمین واپڈا کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی۔ 

عدالت نے کہا کہ واپڈا اور متعلقہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی غیر قانونی بجلی کی فراہمی، بجلی چوری اور غیر مجاز نجی کنکشنز میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے کردار کا جائزہ لیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں