مڈٹرم الیکشن میں شکست، ٹرمپ انتظامیہ سے پہلا استعفیٰ، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل مستعفی، وزیر دفاع کا انکار
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے پہلا استعفیٰ سامنے آنے کی اطلاع ہے، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ہرمیت ڈھلون اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئیں۔
رپورٹ کے مطابق ہرمیت ڈھلون کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہیں، جبکہ آنے والے چند ماہ اور سال ان کے محکمے اور امریکا کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔
ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے آئندہ ہفتے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کے حوالے سے اپنی رائے میں کہا ہے کہ اس کی وجہ صرف ایران کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیرف پالیسی اور سخت امیگریشن اقدامات بھی ہیں۔
اخبار کے مطابق ان پالیسیوں نے بھی انتخابی نتائج پر اثر ڈالا۔
وال سٹریٹ جرنل نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤقف سے ایران کی مذاکراتی پوزیشن مضبوط جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن کمزور ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ اور تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنا ووٹرز کی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر سیاسی اختلافات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔