World

نئی جنگ ہوئی تو ایرانی میزائل یورپ تک پہنچ سکتے ہیں، ایرانی رکن پارلیمنٹ کی دھمکی

نئی جنگ ہوئی تو ایرانی میزائل یورپ تک پہنچ سکتے ہیں، ایرانی رکن پارلیمنٹ کی دھمکی
۱ منٹ پہلے

ایرانی رکن پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر نئے فوجی حملوں کی صورت میں ایرانی جوابی میزائل حملے یورپ تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔ 

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف نئی جنگ مسلط کی تو تہران کا ردعمل ابتدائی حملے کے حجم یا مقام تک محدود نہیں ہوگا۔ 

ان کے مطابق ایران کی جوابی کارروائی وسیع، شدید اور تزویراتی نوعیت کی ہوسکتی ہے، جس کے لیے جغرافیائی حدود کی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ 

حسین علی حاجی دلیگانی نے خبردار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی فوجی جارحیت یا تخریبی کارروائی کا جواب دیا جائے گا اور ایرانی میزائل یورپ میں موجود اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئی جنگ کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر جاسکتی ہے، جس سے عالمی توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ 

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے ملکی مسلح افواج اور فوجی کمانڈروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اپنے مخالفین میں خوف، شکوک اور اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ 

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران ماضی میں فوجی دباؤ کا مقابلہ کرچکا ہے اور ملک پر تیسری جنگ مسلط کرنے کی کوششیں بھی ناکام بنائی جاچکی ہیں۔ 

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے جون 2025 میں ایران کے خلاف پہلی فوجی کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں 12 روز تک جنگ جاری رہی۔ 

ایرانی میڈیا نے دوسری جنگ کے بارے میں بتایا کہ یہ 28 فروری کو شروع ہوئی اور تقریباً 40 روز بعد اپریل کے اوائل میں رک گئی۔ 

ایرانی مؤقف کے مطابق دونوں مواقع پر ایران کی مزاحمت اور جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔ 

دوسری جانب عراق نے ایران کے خلاف فوجی حملوں کے لیے امریکا کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ 

عراقی وزیراعظم کے دفتر سے منسوب بیان کے مطابق وزیراعظم علی الزیدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں واضح کیا کہ بغداد اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ 

عراقی وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک دیگر ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور عراقی سرزمین کو کسی پڑوسی ملک پر حملے کے لیے فوجی اڈے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ 

ادھر عراقی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی نئی جنگ عراق کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ عراق ایک اور جنگ کے لیے تیار نہیں ہے اور خطے میں نئی فوجی کشیدگی کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ 

رپورٹ میں ایران کی میزائل صلاحیت، تیل کی ممکنہ قیمت اور سابقہ جنگوں کے نتائج سے متعلق بیانات ایرانی حکام اور میڈیا کے دعوؤں پر مبنی ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں