تازہ ترین - 09 دسمبر 2025
نیدرلینڈز میں سیلاب کے پیش نظر تیرتے گھروں کا رجحان بڑھ گیا
تازہ ترین - 29 نومبر 2025
نیدرلینڈز میں بارشوں اور سیلاب کے مسلسل خطرات نے عوام اور ماہرین کو متبادل رہائش کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے، اور اس کے نتیجے میں ملک میں تیرتے گھروں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
یہ جدید رہائشی ماڈل نہ صرف محفوظ سمجھا جاتا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں بھی مددگار ہے۔
نیدرلینڈز کے تقریباً ایک تہائی علاقے سمندر کی سطح سے نیچے ہونے کی وجہ سے حکام بھی اس طرز تعمیر کو فروغ دے رہے ہیں۔
2022 کی شدید طوفانی بارش کے دوران ایمسٹرڈیم کے تیرتے محلے سخون شپ کے رہائشیوں نے اپنے گھروں پر مکمل اعتماد ظاہر کیا۔
یہ گھر فولادی ستونوں پر قائم ہیں اور پانی کی سطح بڑھنے یا کم ہونے پر خود بخود اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں، جس سے رہائش محفوظ رہتی ہے۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پانی پر رہنا اب ان کے لیے معمول کی بات ہے۔
ایمسٹرڈیم اور روٹرڈیم جیسے شہر پہلے ہی سینکڑوں تیرتے گھروں، دفاتر اور فارموں کی میزبانی کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آئندہ دس سالوں میں ملک میں دس لاکھ نئے گھروں کی ضرورت ہوگی، اور پانی پر بننے والی بستیاں اس کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ڈچ انجینئرز نہ صرف نیدرلینڈز میں بلکہ مالدیپ، ناروے، فرانس اور فرانسیسی پولینیشیا میں بھی بڑے پیمانے پر تیرتے شہروں کے منصوبے تیار کر رہے ہیں۔
مالدیپ میں 20 ہزار افراد کے لیے فلوٹنگ سٹی کی تعمیر جلد شروع ہونے والی ہے۔
اگرچہ انفراسٹرکچر، بجلی اور نکاسی آب جیسے چیلنجز موجود ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی سمندر کی سطح کے پیش نظر یہ ماڈل مستقبل میں دنیا بھر کے شہروں کو محفوظ رکھنے کا مؤثر حل بن سکتا ہے۔
دیکھیں

