تازہ ترین - 10 مارچ 2026
سفید بال نکالنے سے مزید سفید بال نہیں اُگتے، ماہرین نے عام غلط فہمی دور کر دی
تازہ ترین - 01 دسمبر 2025
بالوں میں سفید ہونا بڑھتی عمر کی عام علامت سمجھا جاتا ہے، مگر حالیہ برسوں میں نوجوان افراد بھی اس کا شکار نظر آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ، فضائی آلودگی، بدلتا طرزِ زندگی اور جینیاتی عوامل سفید بالوں کی اہم وجوہات ہیں۔
اکثر لوگ جب سر پر پہلا سفید بال دیکھتے ہیں تو اسے اکھاڑ دیتے ہیں، مگر یہ خوف رکھتے ہیں کہ ایک بال اکھاڑنے سے باقی بال بھی سفید ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر شیوانگی رانا، ماہر امراض جلد، کے مطابق یہ بات سراسر افسانہ ہے۔ ہر بال کا فولیکل الگ حیاتیاتی سرگرمی رکھتا ہے، اس لیے ایک سفید بال اکھاڑنے سے دوسرے بالوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
تاہم بار بار بال توڑنے کی عادت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے فولیکل کمزور ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بال پتلے ہو سکتے ہیں یا اگنا بند ہو سکتا ہے۔
بالوں کا رنگ میلانین نامی روغن سے بنتا ہے، جو میلانوسائٹس نامی خلیوں کے ذریعے تیار ہوتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ خلیے کمزور پڑ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بال سرمئی اور پھر سفید دکھائی دینے لگتے ہیں۔
ڈاکٹر رانا کے مطابق، سفید بال نکالنے پر نیا بال اکثر پہلے کے مقابلے میں سخت اور گھنا محسوس ہوتا ہے، جس سے غلط تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مزید سفید بال اُگ گئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک بار سفید ہونے والے بال دوبارہ سیاہ نہیں ہو سکتے، مگر طرزِ زندگی میں تبدیلی سے عمل سست کیا جا سکتا ہے۔
سفید بالوں میں اضافے کی رفتار کم کرنے کے لیے مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی، متوازن غذا، وٹامن ڈی، بی کمپلیکس اور کیلشیم پینٹوتھینیٹ جیسے سپلیمنٹس (ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق) اور سگریٹ نوشی و آلودگی سے بچاؤ ضروری ہے۔
مختصر یہ کہ ایک سفید بال نکالنے سے مزید سفید بال نہیں اُگتے، اصل مسئلہ عمر اور طرزِ زندگی سے جڑا ہے، بال توڑنے سے نہیں۔
دیکھیں

