تازہ ترین - 14 دسمبر 2025
"وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سخت ہدایات: عمران خان کی رہائی کیلئے ممکنہ احتجاج کی تیاریاں تیز"
پاکستان - 02 دسمبر 2025
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے منتخب ارکانِ اسمبلی اور سینیٹ کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ احتجاج کی تیاری کریں اور ہر منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔ یہ ہدایات ایک اہم مشاورتی اجلاس کے دوران جاری کی گئی ہیں جس میں عمران خان کی رہائی کے لیے مختلف حکمتِ عملیوں پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ تمام اراکین اپنے اپنے حلقوں میں کارکنوں کو متحرک کریں، کارنر میٹنگز منعقد کریں اور ہر منگل صوابی میں جمع ہو کر اسلام آباد کے لیے قافلوں کی صورت میں روانہ ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو ارکان اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی بہنوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے نہیں آئیں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
پارٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ عمران خان سے ملاقات نہ ہونے اور احتجاج نہ بڑھانے پر انہیں تنقید کا سامنا ہے۔ کچھ پارٹی رہنما ملک گیر احتجاج چاہتے ہیں، جبکہ سہیل آفریدی حکومت کی ذمہ داریوں اور این ایف سی اجلاس میں شرکت کے باعث محتاط حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ایک پارٹی رہنما نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پرامن احتجاج کے حامی ہیں اور 9 مئی اور 26 نومبر جیسے پرتشدد واقعات کے اثرات سے پارٹی ابھی تک نہیں نکل سکی، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ احتجاج قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے تاکہ مخالفین کو کارروائی کا موقع نہ مل سکے۔
ترجمان خیبر پختونخوا حکومت شفیع اللہ جان نے بھی تصدیق کی کہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور سہیل آفریدی خود فرنٹ لائن پر ہیں۔ ہر منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر احتجاج اور اہل خانہ کے ساتھ مارچ کا فیصلہ بھی انہی کا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار عبدالقیوم آفریدی کے مطابق سہیل آفریدی اس وقت دو طرفہ دباؤ میں ہیں—ایک جانب کارکن فوری احتجاج چاہتے ہیں جبکہ دوسری جانب صوبے کے انتظامی امور اور وفاق کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک گیر احتجاج کی تنظیم اس وقت ممکن نہیں کیونکہ کارکن پوری طرح متحرک نہیں اور پارٹی کے اندر بھی گروپ بندی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دے رہے ہیں اور عدالتوں کے ذریعے عمران خان کی رہائی اور ملاقات کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کارکنوں کے نزدیک کارکردگی کا اصل معیار عمران خان کی جلد رہائی ہے، جو سہیل آفریدی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ سہیل آفریدی کس حد تک پارٹی ورکرز کے دباؤ کو سنبھال پاتے ہیں اور احتجاج کی تحریک کو کس سمت لے جاتے ہیں۔
دیکھیں

