کیا روزانہ ملٹی وٹامنز بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں؟ نئی تحقیق میں دلچسپ انکشاف

news-banner

تازہ ترین - 14 مارچ 2026

حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ ملٹی وٹامنز کے استعمال سے بڑھاپے کے عمل کو نمایاں حد تک سست کیا جا سکتا ہے۔

 

سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع تحقیق کے مطابق دو سال تک روزانہ ملٹی وٹامن سپلیمنٹس لینے والے عمر رسیدہ افراد میں بڑھاپے کے اثرات سپلیمنٹ نہ لینے والوں کے مقابلے تقریباً چار ماہ تک سست ہو گئے۔

 

تحقیق کے شریک مصنف کے مطابق محققین صرف یہ جاننے کی کوشش نہیں کر رہے کہ لوگ زیادہ عرصہ کیسے زندہ رہ سکتے ہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ بہتر معیارِ زندگی کیسے گزار سکتے ہیں۔

 

محققین نے واضح کیا کہ اگرچہ ابھی ڈیٹا کو براہِ راست طبی نتائج سے جوڑنا قبل از وقت ہو گا، تاہم دو سال کے دوران ملٹی وٹامن کے اثرات اس سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

 

اس تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے 70 سال سے زائد عمر کے 958 صحت مند افراد کے خون کے نمونوں کا جائزہ لیا۔ 

 

حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے خون میں موجود پانچ ایپی جینیٹک گھڑیاں (کلاؤکس) کا تجزیہ کیا گیا، جو ڈی این اے میتھائلیشن کے پیٹرن کے ذریعے بڑھاپے کے بایو مارکرز کو ناپتی ہیں۔

 

نتائج سے ظاہر ہوا کہ روزانہ ملٹی وٹامن لینے سے ان پانچ میں سے دو ایپی جینیٹک گھڑیاں میں بڑھاپے کے اشاریوں کی رفتار نمایاں طور پر سست ہوئی، جو ممکنہ طور پر موت کے خطرے سے بھی متعلق ہو سکتی ہیں۔

 

محقق اسٹیو ہوروتھ کے مطابق اگرچہ اثرات نسبتاً محدود ہیں، لیکن مختلف ایپی جینیٹک گھڑیوں میں مستقل مزاجی وہی چیز ہے جس کی سائنس دان توقع کرتے ہیں۔