واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ اہلکاروں پر حملہ کرنے والا افغان شخص شدید ذہنی مسائل کا شکار تھا، ای میلز سے انکشاف

news-banner

دنیا - 02 دسمبر 2025

واشنگٹن ڈی سی میں دو نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار افغان شہری رحمان اللہ لکانوال کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق وہ شدید ذہنی مسائل، طویل تنہائی اور ’’مانیاق‘‘ دوروں کا شکار تھا۔

 

لکانوال، 29 سالہ، پر الزام ہے کہ اس نے ایمبش طرز کے حملے میں 20 سالہ سارہ بیک اسٹروم کو قتل اور 24 سالہ اینڈریو وولف کو شدید زخمی کیا۔

 

وہ 2021 میں امریکی پروگرام آپریشن ایلیز ویلکم کے تحت ملک میں داخل ہوا تھا، جو ان افغان شہریوں کے لیے بنایا گیا تھا جنہوں نے امریکی افواج کی مدد کی تھی۔

 

CBS نیوز کے مطابق 2024 کی ای میلز میں کیس ورکر نے بتایا کہ لکانوال ایک سال سے بے روزگار تھا، گھر سے بے دخلی کا خطرہ تھا، اور وہ ممکنہ طور پر شدید ذہنی بیماری کا شکار تھا۔


ایک ای میل میں لکھا تھا کہ وہ ’’ہفتوں تک اندھیرے کمرے میں پڑا رہتا ہے، اپنی بیوی یا بچوں سے بھی بات نہیں کرتا‘‘۔ کیس ورکر نے یہ بھی بتایا کہ اسے ’’مانیاق دورے‘‘ آتے تھے جن میں وہ اچانک گاڑی لے کر غائب ہو جاتا تھا۔

 

اس کے ایک بچپن کے دوست نے بتایا کہ افغانستان میں سی آئی اے کے زیرو یونٹ کے ساتھ کام کرنے کے بعد اس کی ذہنی حالت بگڑنے لگی۔

 

ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے کہا کہ لکانوال ’’امریکہ میں رہتے ہوئے انتہاپسندانہ اثرات‘‘ کا شکار ہوا۔

 

حملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام پناہ گزین کیسز منجمد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فیصلوں کی بحالی اس وقت ہوگی ’’جب شدید ترین سکریننگ کا نظام نافذ ہو جائے‘‘۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک سے آمد کو بھی ’’مستقل طور پر روکنے‘‘ کا عندیہ دیا۔

 

لکانوال حملے کے دوران زخمی ہوا اور زیرِ علاج ہے، اس پر قتل کے الزامات عائد ہیں۔


گورنر پیٹرک موریسی کے مطابق زخمی گارڈ اہلکار اینڈریو وولف کی حالت نازک مگر بہتر ہو رہی ہے، اور اس نے انگھوٹھا اٹھا کر جواب بھی دیا۔