پاکستان میں نومبر 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، عام شہری ہدف بن گئے

news-banner

پاکستان - 02 دسمبر 2025

پاکستان میں نومبر 2025 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر کے عام شہریوں کو ہدف بنانا شروع کر دیا۔

 

 رپورٹ کے مطابق عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اکتوبر کے مقابلے نومبر میں 80 فیصد اضافہ ہوا، نومبر میں 54 شہری جان سے گئے جبکہ اکتوبر میں یہ تعداد 30 تھی۔

 

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پکس) کی رپورٹ کے مطابق نومبر میں ملک بھر میں دہشت گردی کے 97 واقعات ہوئے، جو اکتوبر کے 89 کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ 

 

اس دوران سکیورٹی فورسز کے 25 اہلکار اور 7 امن کمیٹی ارکان بھی جاں بحق ہوئے جبکہ 83 سکیورٹی اہلکار، 67 عام شہری اور 4 امن کمیٹی کے ارکان زخمی ہوئے۔

 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے نومبر میں سخت کارروائیاں کرتے ہوئے 206 عسکریت پسند ہلاک کیے، جن میں 137 خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع اور 58 سابقہ فاٹا میں مارے گئے۔

 

 نومبر میں خودکش حملوں میں بھی اضافہ ہوا اور 4 خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے، جو اسلام آباد، پختونخوا، بلوچستان اور سابقہ فاٹا میں ہوئے۔

 

سال 2025 اب تک عسکریت پسندوں کے لیے 2015 کے بعد سب سے خراب سال ثابت ہوا ہے، اور جنوری سے نومبر کے دوران پکس کے مطابق 1,940 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔