تازہ ترین - 10 مارچ 2026
27ویں آئینی ترمیم پر کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں اعتراض
پاکستان - 02 دسمبر 2025
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کی تیاری میں کسی جماعت یا قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ترمیم کے ذریعے مخصوص شخصیات کو ایسی مراعات دی گئی ہیں جو خدمات کے صلے میں نہیں بلکہ معاشرے میں طبقاتی تقسیم پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
ان ترامیم کو عوام نے بھی قبول نہیں کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین کو متنازع نہ بنایا جائے، ورنہ اس ترمیم کا حال بھی 18ویں ترمیم سے پہلے کی ترامیم جیسا ہو سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو دو تہائی اکثریت رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے مشاورت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ 18ویں ترمیم 9 ماہ کی مسلسل محنت اور تمام جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے سامنے آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت پی ٹی آئی شریک نہیں تھی، پھر بھی جے یو آئی اُنہیں ہر مرحلے سے آگاہ کرتی رہی۔
ادھر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اقلیتوں کے حقوق کا کمیشن قائم کرنے کا بل بھی منظور کر لیا گیا۔ اسپیکر ایاز صادق کے مطابق بل کے حق میں 160 جبکہ مخالفت میں 79 ووٹ آئے۔ اپوزیشن نے اس دوران اسپیکر ڈائس کے سامنے نعرے بازی کی۔
دیکھیں

