پاکستان - 03 مارچ 2026
جیو انٹرٹینمنٹ کے ڈرامے ’’کیس نمبر 9‘‘ نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی، بیرونی میڈیا میں بھی چرچا
انٹرٹینمنٹ - 02 دسمبر 2025
کراچی: جیو انٹرٹینمنٹ کا ڈرامہ کیس نمبر 9 سوشل میڈیا پر دھوم مچا چکا ہے اور بیرونی میڈیا میں بھی اس کے مناظر زیرِ بحث ہیں۔
ڈرامے کے مصنف جیو چینل کے معروف اینکر شاہ زیب خانزادہ ہیں، جن کی تحریر اور جملوں نے ناظرین کے دل جیت لیے ہیں۔ یہ ڈرامہ مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔
یہ ڈرامہ برطانوی میڈیا ادارے بی بی سی کی توجہ کا مرکز بھی بنا، جس نے کچھ مناظر کو اپنی تفصیلی رپورٹ میں شامل کیا۔
بی بی سی نے کیس نمبر 9 کے جملے شامل کیے، جیسے:
"کیا اوقات ہے سحر کی کہ وہ مجھے انکار کرے؟ فلرٹ کرنے، غصہ کرنے اور ریپ کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ سحر طلاق یافتہ ہیں، کنواری نہیں۔"
سحر کی وکیل نے جواب دیا کہ ملزم کامران اور ان کے وکیل تمام طلاق یافتہ خواتین کے کردار پر سوال اٹھا رہے ہیں، اور یہ ہتھکنڈے عام طور پر متاثرہ خواتین کو ریپ کیسز میں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
ڈرامے میں عدالت کے کمرے میں ریپ کیس کی جرح دکھائی گئی ہے، جہاں سحر کی وکیل سپریم کورٹ کی جج عائشہ ملک کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ متاثرہ کے کردار یا کنواری ہونے پر سوال اٹھانے سے ریپ کی حقیقت کا تعین نہیں ہوتا بلکہ یہ ٹرائل کو متاثرہ پر مرکوز کر دیتا ہے۔
اگر کسی انسان کا متعدد لوگوں کے ساتھ تعلق بھی ہو، تب بھی وہ ریپ کا مستحق نہیں ہوتا۔ کامران کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایک معصوم مرد پر گھناؤنے جرم کا الزام لگایا جا رہا ہے، اس لیے سحر کے کردار پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
عدالت کے مناظر حقیقت پسندانہ ہیں، اور وکیلِ صفائی کے سوالات وہی انداز اور اشارے ظاہر کرتے ہیں جو حقیقی زندگی میں متاثرہ خواتین کو عدالت میں برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
یہ ڈرامہ سوشل میڈیا پر نئی بحث پیدا کر چکا ہے۔ بعض افراد اسے عدالتی کارروائیوں کی اہم معلومات فراہم کرنے والا سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ سخت سوالات کرنا پاکستان میں عدالتی عمل کا حصہ ہے۔
دیکھیں

