یوکرین امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں—پیوٹن اور امریکی نمائندوں کی بات چیت بے نتیجہ ختم

news-banner

دنیا - 03 دسمبر 2025

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ مذاکرات کاروں کے درمیان پانچ گھنٹے کی طویل ملاقات یوکرین کے امن معاہدے پر کسی اہم پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی۔

 

کریملن کے مطابق ماسکو میں ہونے والی ملاقات ’’تعمیری‘‘ رہی، تاہم منصوبے کے کئی نکات اب بھی روس کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔

 

 امریکی وفد—جس میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر شامل تھے—نے روانگی کے بعد کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

 

اس سے قبل پیوٹن نے یوکرین اور یورپی ممالک کی جانب سے امریکی تعاون سے تیار کردہ مسودے میں کی گئی تبدیلیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر یورپ ’’جنگ شروع کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔‘‘

 

یوکرین اور اس کے یورپی اتحادی اس منصوبے کی شقوں میں ترمیم چاہتے ہیں، جو نومبر میں منظرِ عام پر آنے کے بعد روس کے حق میں تصور کیا جا رہا تھا۔

 

 اگرچہ مسودے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، مگر بڑے اختلافات برقرار ہیں—خصوصاً یوکرین سے وہ علاقے چھوڑنے کا مطالبہ جن پر وہ اب بھی قابض ہے، اور یورپی سلامتی ضمانتوں کے نوعیت پر۔

 

پیوٹن نے یورپی رہنماؤں پر بھی تنقید کی کہ وہ روس کو اسٹریٹجک شکست دینے کا خام خیال رکھتے ہیں۔

 

 دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ وہ امریکی ٹیم سے بریفنگ کے منتظر ہیں، اور یہ کہ امن مذاکرات میں یوکرین کی شمولیت ضروری ہے، ساتھ ہی ایسے مضبوط حفاظتی ضمانتیں بھی جو آئندہ روسی حملے کو روک سکیں جیسے نیٹو رکنیت، جسے روس مسترد کرتا ہے اور ٹرمپ بھی اس کی مخالفت کر چکے ہیں۔

 

مذاکرات کے دوران مشرقی یوکرین میں شدید لڑائی جاری رہی۔

 

 کیف نے روسی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پوکروفسک اور وووچانسک جیسے شہروں پر قبضے کے دعوے غلط ہیں، اور یوکرینی فورسز اب بھی اہم علاقوں پر موجود ہیں۔ 

 

بین الاقوامی مبصرین نے بھی روس کے دعوؤں پر سوال اٹھائے ہیں۔

 

اقوام متحدہ کے مطابق 24 فروری 2022 سے شروع ہونے والی جنگ میں لاکھوں فوجی زخمی یا ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 14 ہزار سے زائد شہری بھی جاں بحق ہوئے۔

 

 کثیر تعداد میں رہائشی عمارتیں، اسپتال اور اسکول روسی ڈرون اور میزائل حملوں میں تباہ ہوئے ہیں۔