Pakistan

لاہور ہائیکورٹ: بچوں کی حوالگی میں بچے کی خواہش سب سے اہم، 13 سالہ بچے کو لے پالک والدین کے ساتھ رہنے کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ: بچوں کی حوالگی میں بچے کی خواہش سب سے اہم، 13 سالہ بچے کو لے پالک والدین کے ساتھ رہنے کی ہدایت
۲۰۳ دن پہلے

لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی حوالگی کے ایک اہم کیس میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے معاملات میں بچے کی رائے اور ذہنی کیفیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔

 

 جسٹس فیصل زمان خان نے سید ارشد علی کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا اور ٹرائل کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دیا جس میں بچے کو حقیقی والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

 

عدالت نے 13 سالہ بچے کو دوبارہ لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کے اصولی مؤقف کے تحت بچوں کے حقوق سے متعلق معاملات میں ان کی رائے کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ 

 

موجودہ کیس میں بچے نے دو مرتبہ عدالت میں بیان دیا کہ وہ لے پالک والدین کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔

 

عدالت نے کہا کہ اصولی طور پر حقیقی والدین کو ترجیح دی جاتی ہے، مگر اس کیس میں حقیقی والدین نے پیدائش کے وقت بچے کو بھائی کے حوالے کیا تھا، جبکہ لے پالک والدین نے نو سال تک اس کی پرورش کی۔ بچے نے بھی انہیں اپنا حقیقی ماحول قرار دیا۔

 

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ حقیقی والد کی 3 شادیاں اور 13 بچے ہیں، اور بچے کو اتنے بڑے خاندان میں بھیجنا مناسب نہیں۔

 

 حقیقی والدین یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ لے پالک والدین کے ہاں بہتر پرورش نہیں ہوئی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بچے کو اچانک اجنبی ماحول میں منتقل کرنا اس کی فلاح کے خلاف ہے۔

 

ٹرائل کورٹ نے 2022 میں بچے کو لے پالک والدین سے حقیقی والدین کے حوالے کیا تھا، جس کے خلاف لے پالک والدین نے اپیل دائر کی۔

 

 لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے بچے کو لے پالک والدین کے ساتھ رہنے کی ہدایت جاری رکھی، اور کہا کہ حقیقی والدین ملاقات کے لیے گارڈین کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔


 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں