حافظ نعیم الرحمان: نظام چہرے بدلنے سے نہیں، مسلسل جدوجہد سے بدلے گا

news-banner

پاکستان - 07 جنوری 2026

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اٹک کے ریلوے گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا نظام صرف چہروں کی تبدیلی سے نہیں، بلکہ مسلسل جدوجہد سے بدلے گا۔

 

 اُنہوں نے کہا کہ فوج اور عوام میں فاصلے دفاع کو کمزور کر دیتے ہیں اور قوم کے اتحاد سے دشمن شکست کھاتا ہے۔ فارم 47 کی حکومت عوامی غصے کی بنیادی وجہ ہے۔

 

حافظ نعیم الرحمان نے عدالتی نظام کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ ملک بھر میں 23 لاکھ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، جبکہ انصاف غریب اور مڈل کلاس کے پہنچ سے باہر ہے۔

 

 اُن کے مطابق 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے عدالتی اصلاحات کو ختم کر دیا۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 83 فیصد مزدور غیر رسمی شعبے میں کام کرتے ہیں اور قانونی تحفظ نہیں رکھتے، جبکہ کم از کم اجرت کے دعوے صرف کاغذ پر ہیں۔

 

 انہوں نے تعلیم کے بحران کی بھی نشاندہی کی اور بتایا کہ 2 کروڑ 62 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، سرکاری سکول تباہ حال ہیں، اور 25 ہزار سے زائد سکول آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں۔

 

حافظ نعیم الرحمان نے کشمیر پر موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینا ناگزیر ہے اور کسی ثالثی کو کشمیریوں کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اور افغانستان کے مسائل مذاکرات سے حل ہوں گے، جنگ سے نہیں۔

 

امیر جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں 2015 کے بعد انتخابات نہیں ہوئے، غیر جماعتی نظام عوام کے ساتھ دھوکہ ہے، اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔