اگر خیبرپختونخوا میں آپریشن ہوا تو کھلی بدمعاشی ہوگی: وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

news-banner

پاکستان - 09 جنوری 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر صوبے میں کسی قسم کا آپریشن کیا گیا تو یہ کھلی بدمعاشی کے مترادف ہوگا۔ 

 

کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور عمران خان کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی حکومت کو لندن پلان کے تحت غیر قانونی طریقے سے ختم کیا گیا۔ یہ جنگ صرف تحریک انصاف کی نہیں، بلکہ حق اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے والے تمام افراد کی ہے، اور صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام تحریک انصاف سے مطمئن ہیں، اس لیے تیسری بار مینڈیٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ دوسرے صوبے میں سیاست نہیں کر سکتا، اس لیے صوبائی اسمبلی میں امن جرگہ کیا گیا جس میں تمام جماعتوں کو مدعو کیا گیا۔

 

سہیل آفریدی نے بتایا کہ امن جرگے کے 15 نکاتی ایجنڈے پر سب نے اتفاق کیا، اور بانی پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔

 

 انہوں نے کہا کہ کل تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قافلے کی گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے، اس صورتحال میں ڈائیلاگ کی دعوت دینے سے سامنے والے کی نیت کا پتہ چلتا ہے۔

 

آپریشن کی اجازت کے بارے میں سوال پر انہوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ سٹریٹ موومنٹ کی ہدایت بانی پی ٹی آئی نے دی ہے، جبکہ مذاکرات اور مزاحمت کا مینڈیٹ محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کے پاس ہے۔

 

وزیراعلیٰ نے وفاق پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی میں ہمارا حصہ نہیں دیا جا رہا اور صوبے کے 758 ارب روپے کے بقایا جات ابھی تک ادا نہیں ہوئے۔

 

 انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا ہر شہری 20 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکتا ہے اور سستی بجلی پورے ملک کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔