روسی وزارتِ دفاع کا دعویٰ: یوکرین کو 24 گھنٹوں میں 1,090 فوجیوں اور بھاری فوجی نقصان کا سامنا

news-banner

دنیا - 11 جنوری 2026

روسی وزارتِ دفاع کے مطابق یوکرین کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف محاذوں پر شدید جانی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑا، جس میں تقریباً 1,090 فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے اور بڑی تعداد میں بکتر بند گاڑیاں، توپ خانہ اور دیگر جنگی سازوسامان تباہ کر دیا گیا۔

 

روسی بیان کے مطابق فضائی، زمینی اور ڈرون حملوں کے ذریعے یوکرینی افواج کے ٹھکانوں اور فوجی تیاریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

 

 شمالی محاذ پر 130 سے زائد فوجی مارے گئے اور تین گاڑیاں تباہ ہوئیں، جبکہ مغربی محاذ پر 190 کے قریب فوجی، ایک بکتر بند گاڑی، ایک توپ اور 12 دیگر گاڑیاں تباہ کی گئیں۔

 

جنوبی محاذ پر 190 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے اور نو بکتر بند گاڑیاں، 14 دیگر گاڑیاں اور چار توپیں تباہ ہوئیں۔

 

 مرکزی محاذ پر 410 فوجیوں کے ساتھ چھ بکتر بند گاڑیاں، آٹھ گاڑیاں اور دو توپیں نشانہ بنیں۔ مشرقی محاذ پر 135 سے زائد فوجی اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوئیں جبکہ دنیپر محاذ پر 35 فوجی اور چار گاڑیاں ضائع ہوئیں۔

 

روسی افواج نے یوکرین کے دفاعی صنعت کو توانائی فراہم کرنے والے انفراسٹرکچر، ایندھن کے ذخائر اور عارضی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں میں جنگی طیارے، مسلح ڈرون، میزائل اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا۔

 

روسی فضائی دفاع نے ایک نیپچون طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل اور 70 یوکرینی ڈرونز کو بھی مار گرایا۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد یوکرین کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور میدانِ جنگ میں برتری قائم رکھنا ہے۔

 

یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روس نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں نیٹو یا یورپی افواج کی موجودگی ناقابلِ قبول ہوگی اور کسی بھی جارحانہ قدم کا فوری جواب دیا جائے گا۔