کاروبار - 19 جنوری 2026
فضائی آلودگی سے پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، ماہرین کی وارننگ
تازہ ترین - 19 جنوری 2026
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فضائی آلودگی مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے، خصوصاً وہ افراد جو گنجان شہری علاقوں یا بڑی شاہراہوں کے قریب رہائش پذیر ہیں زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فضائی آلودگی کے باعث ہر سال تقریباً 12 ہزار مرد پروسٹیٹ کینسر کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
یہ تحقیق برطانیہ کے 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد مردوں کے ڈیٹا پر کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ زیادہ آلودہ ماحول میں رہنے والے افراد میں پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ نسبتاً صاف علاقوں میں رہنے والوں کے مقابلے میں 6.9 فیصد زیادہ تھا۔
محققین کے مطابق اس خطرے کی بڑی وجہ نائٹریٹ (NO₃) ہے جو گاڑیوں کے دھوئیں سے خارج ہوتا ہے اور نائٹروجن پر مشتمل ہوتا ہے، جو کینسر کے خلیوں کی افزائش میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
تحقیق میں PM2.5 کے مختلف اجزا کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اوسط عمر 58 سال کے حامل تقریباً 2 لاکھ 24 ہزار مردوں کو اوسطاً 13.7 سال تک زیرِ نگرانی رکھا گیا، جن میں سے 5 فیصد میں بیماری کی تشخیص ہوئی۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ فضائی آلودگی پروسٹیٹ کینسر کے خطرے میں معمولی مگر واضح اضافے سے منسلک ہے۔
دیکھیں

