بھارت نے بنگلہ دیش کو ’’نان فیملی‘‘ ملک قرار دے کر سفارتکاروں کے اہلخانہ واپس بلا لیے

news-banner

دنیا - 21 جنوری 2026

نئی دہلی: بھارت نے بنگلہ دیش کو ’’نان فیملی‘‘ ملک قرار دے دیا ہے، جس کے تحت وہاں تعینات بھارتی سفارتکاروں کے اہل خانہ کو وطن واپس جانا ہوگا۔

 

عالمی میڈیا کے مطابق، اس کا مطلب ہے کہ بھارتی سفارتکار اور عملہ بنگلہ دیش میں تعینات ہونے کے باوجود اپنی بیوی اور بچوں کو وہاں نہیں لے جا سکیں گے۔

 

قبل ازیں صرف چار ممالک—پاکستان، افغانستان، عراق اور جنوبی سوڈان کو بھارت نے سفارتی تعیناتی کے لیے ’’نان فیملی‘‘ قرار دیا ہوا تھا۔ اب بنگلہ دیش بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

 

یہ فیصلہ یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہے۔

 

 بنگلہ دیش میں تعینات بھارتی حکام کو بتایا گیا کہ اُن کے اہل خانہ 8 جنوری تک واپس آئیں، تاہم وہ سفارتکار جن کے بچے بنگلہ دیشی اسکولوں میں پڑھتے ہیں، انہیں اضافی 7 دن دیے گئے۔ یوں 15 جنوری تک ڈھاکہ، چٹاگانگ، کھلنا، سلہٹ اور راجشاہی میں تعینات بھارتی اہلکاروں کے خاندانوں کو بہت کم وقت میں وطن واپس جانا پڑا۔

 

بھارتی وزارت خارجہ نے ابھی تک تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے ذرائع نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔

 

بنگلہ دیش میں سابق بھارتی ہائی کمشنر پیناکا رنجن چکرورتی نے کہا کہ ممکنہ طور پر یہ قدم فروری 2026 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، تاکہ بھارتی اہلکاروں کے اہل خانہ محفوظ رہیں۔

 

 انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ غیر معمولی نہیں ہے، کیونکہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ جیسی بڑی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت محدود ہے اور اس فیصلے پر کافی تنازع موجود ہے۔