پاکستان - 21 جنوری 2026
قومی اسمبلی میں 18ویں ترمیم پر اتحادی جماعتوں میں شدید اختلافات، ن لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے
پاکستان - 21 جنوری 2026
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران 18ویں آئینی ترمیم ایک بار پھر حکومت کی اتحادی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بن گئی۔
مسلم لیگ (ن) کے وزرا کی جانب سے تنقیدی بیانات پر پاکستان پیپلز پارٹی نے سخت ردعمل دیا اور اسے حکومتی پالیسی قرار دے دیا۔
وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے کراچی کے گل پلازہ سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر 18ویں ترمیم کے بعد سب کچھ درست ہے تو ایسے واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بھی 18ویں ترمیم پر بات ہوتی ہے تو غیر ضروری ردعمل سامنے آتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے سانحے کو بنیاد بنا کر 18ویں ترمیم کو نشانہ بنانا حکمران جماعت کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کسی صورت صوبائی اختیارات پر سمجھوتہ قبول نہیں کرے گی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خواجہ آصف کے بیان سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور حکومت کا مؤقف نہیں۔
ادھر ایم کیو ایم کے رکن سید حفیظ الدین نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر بات کرنا کوئی ممنوع موضوع نہیں اور سندھ میں انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بنائے جانے چاہئیں۔
پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم نہیں بلکہ وہ صدارتی آرڈیننس اصل ڈھکوسلہ تھا جو صدر کے دستخطوں کے بغیر جاری کیا گیا۔
دیکھیں

