دنیا - 21 جنوری 2026
قومی اسمبلی سے الیکشنز ایکٹ میں بڑی ترامیم منظور، وفاقی آئینی عدالت کا کردار مزید وسعت اختیار کر گیا
پاکستان - 21 جنوری 2026
قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں مزید ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد الیکشنز (ترمیمی) ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
یہ بل رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے پیش کیا، جس کے تحت مختلف شقوں میں ’’سپریم کورٹ‘‘ کی جگہ ’’فیڈرل آئینی عدالت‘‘ شامل کر دی گئی ہے۔
منظور شدہ ترامیم کے مطابق الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 9، 66، 104، 104A، 155، 202، 212 اور 232 میں تبدیلی کرتے ہوئے انتخابی تنازعات، اپیلوں اور قانونی تشریح کا دائرہ اختیار وفاقی آئینی عدالت کو دے دیا گیا ہے۔ اب انتخابی معاملات میں اپیلوں اور آئینی تشریح کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہوگا۔
اثاثوں کی تفصیلات سے متعلق اہم تبدیلی
قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 138 میں بھی اہم ترمیم منظور کی ہے، جس کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو ارکان کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات عوامی سطح پر شائع نہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
ترمیم کے مطابق اگر کسی رکن یا اس کے اہل خانہ کو جان یا سیکیورٹی کا خطرہ لاحق ہو تو اثاثوں کی تفصیلات زیادہ سے زیادہ ایک سال تک خفیہ رکھی جا سکیں گی۔ تاہم ارکان کو اثاثوں اور واجبات کی مکمل تفصیلات الیکشن کمیشن کو خفیہ طور پر جمع کرانا لازمی ہوگا۔
اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ اس حوالے سے تحریری وجوہات کے ساتھ ایوان میں رولنگ دینے کے پابند ہوں گے۔
قانون سازی کا مقصد اور ایوانی بحث
بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد شفافیت اور بنیادی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
اثاثوں کی تفصیلات کو احتساب کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے، تاہم غیر ضروری انکشافات کو ارکان اور ان کے اہل خانہ کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
ایوان میں بحث کے دوران بیرسٹر گوہر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی معاملات کو بلا ضرورت سپریم کورٹ کے بجائے آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں لایا جا رہا ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب میں کہا کہ سیاسی جماعت کی نااہلی، فلور کراسنگ اور دیگر آئینی نوعیت کے انتخابی معاملات پہلے بھی آئینی عدالتوں کے سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے دائرہ اختیار کی واضح تقسیم ناگزیر تھی۔
دیگر قانون سازی
اسی اجلاس میں ضابطہ فوجداری ترمیمی بل 2026، خواتین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے سے متعلق آئینی ترمیمی بل اور دیگر مسودات بھی پیش کیے گئے، جنہیں مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد الیکشنز (ترمیمی) بل 2026 اب سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
دیکھیں

