چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کو سپریم کورٹ نے ضمانت دے دی، لڑکی نے بیان دیا کہ شادی اپنی مرضی سے کی

news-banner

پاکستان - 21 جنوری 2026

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم محمد عرفان کی ضمانت منظور کر لی۔

 

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ضمانت کی درخواست پر سماعت کی اور ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر دی۔

 

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ملزم نے 16 سالہ لڑکی کو اغوا کیا اور گھر سے سونا و پیسے چوری کیے۔

 

ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لڑکی نے عدالت کے ذریعے شادی کی اور اس کا مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔

 

 لڑکی کی جڑواں بہن ہے، اور دوسری بہن کی تین سال قبل شادی ہو چکی ہے۔

 

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ فیملی ٹری مت نکالیں، لڑکی تین بار مجسٹریٹ کے سامنے بیان دے چکی ہے کہ شادی اپنی مرضی سے کی۔ جب میاں بیوی راضی ہیں تو مسئلہ کیا ہے؟

 

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم جون 2025 سے گرفتار ہے۔

 

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا پوچھی، جس پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سزا 16 سال 4 ماہ ہے۔

 

دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ملزم کو ضمانت دے دی۔