پاکستان چار سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری کر رہا ہے

news-banner

کاروبار - 21 جنوری 2026

اسلام آباد: پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔

 

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران بلومبرگ کو بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں بانڈ اجرا کے لیے عالمی مشیروں کے تقرر کا عمل شروع کرے گی۔ 

 

حکومت یہ جائزہ لے رہی ہے کہ ڈالر بانڈ، یورو بانڈ یا سکوک میں سے کون سا مالیاتی آلہ زیادہ موزوں ہوگا۔

 

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان پہلی بار چینی کرنسی میں “پانڈا بانڈ” جاری کرنے کی تیاری بھی کر رہا ہے، جس کا مقصد عالمی سرمایہ کاروں خصوصاً چینی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی فراہم کرنا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ افراطِ زر جو ایک وقت میں تقریباً 40 فیصد تھی، اب سنگل ڈیجٹ میں ہے۔

 

 عالمی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، ایس اینڈ پی اور فچ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے۔

 

 زرِ مبادلہ کے ذخائر رواں مالی سال کے اختتام تک درآمدات کے تین ماہ کے برابر ہونے کی توقع ہے۔

 

 حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے تاکہ ادائیگیوں کے توازن کے بحران دوبارہ پیدا نہ ہوں۔

 

بلومبرگ رپورٹ کے مطابق، پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے باہر تھا، تاہم آئی ایم ایف پروگرام، مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور سبسڈی میں کمی نے اعتماد بحال کیا ہے۔

 

 معاشی ماہرین اس پیش رفت کو مثبت قرار دے رہے ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق پانڈا بانڈ پاکستان کو چین کی سرمایہ مارکیٹ سے براہِ راست رسائی دے گا اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا۔

 

 برآمدات پر مبنی ترقی، افراطِ زر میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اصلاحات کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔