خلائی تحقیق اور اے آئی میں تاریخی پیش رفت، ایلون مسک کی دولت نئی بلندیوں پر

news-banner

تازہ ترین - 04 فروری 2026

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے اپنی خلائی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) اور مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی (xAI) کو ضم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد نئی مشترکہ کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً 1.25 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ 

 

یہ اقدام جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں اب تک کے سب سے بڑے کاروباری فیصلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

 

اس بڑے انضمام کے بعد ایلون مسک کی ذاتی دولت میں تقریباً 84 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ان کی مجموعی دولت 852.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی اور وہ بدستور دنیا کے سب سے امیر فرد بن گئے ہیں۔

 

معاہدے کے مطابق اسپیس ایکس کی تخمینی مالیت 1 ٹریلین ڈالر جبکہ ایکس اے آئی کی قدر تقریباً 250 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ 

 

انضمام کے بعد ایکس اے آئی کے شیئرز کو اسپیس ایکس کے شیئرز میں تبدیل کیا جائے گا، اور دونوں ادارے اے آئی، راکٹ ٹیکنالوجی، اسٹارلنک سیٹلائٹ نیٹ ورک اور دیگر جدید منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کریں گے۔

 

ماہرین کے مطابق یہ قدم اسپیس ایکس کو مستقبل کے ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی خدمات اور خلائی منصوبوں میں مزید مضبوط بنائے گا اور ممکنہ طور پر اسے رواں سال جون میں متوقع آئی پی او کے لیے بھی تیار کرے گا، تاہم بعض ناقدین نے کمپنی کی قدر اور تخمینوں پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔