قرضوں پر سود کی ادائیگی دفاع اور ترقیاتی اخراجات سے دگنی، معیشت شدید دباؤ میں

news-banner

کاروبار - 07 فروری 2026

اسلام آباد: رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران قرضوں پر سود کی ادائیگی کے اخراجات دفاعی اور ترقیاتی بجٹ کے مجموعے سے کہیں زیادہ رہے، جس سے ملکی معیشت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، خاص طور پر آئی ایم ایف پروگرام کی سخت شرائط کے تناظر میں۔

 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جولائی تا دسمبر قرضوں کی سروسنگ پر 3563 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ اسی مدت میں دفاعی اخراجات 1044 ارب روپے اور پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے اخراجات 238 ارب روپے رہے، جو مجموعی طور پر بھی سودی ادائیگیوں سے نصف سے کم ہیں۔

 

مالیاتی عدم توازن اگرچہ برقرار ہے، تاہم رواں مالی سال کے پہلے نصف میں یہ 413.3 ارب روپے رہا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 439.7 ارب روپے تھا۔ 

 

صوبوں میں سب سے زیادہ فرق پنجاب میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں یہ 144.4 ارب روپے رہا۔

 

آئی ایم ایف پروگرام کی سخت نگرانی کے تحت حکومت نے جولائی تا دسمبر 542 ارب روپے کا مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 1537 ارب روپے کا خسارہ تھا۔

 

پرائمری بیلنس، جسے آئی ایم ایف انتہائی اہمیت دیتا ہے، 4105 ارب روپے (جی ڈی پی کا 3.2 فیصد) سرپلس رہا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 3600 ارب روپے (جی ڈی پی کا 3.1 فیصد) تھا۔

 

وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق، پہلے چھ ماہ میں مجموعی قومی آمدن 10,683 ارب روپے رہی، جس میں ایف بی آر کی وصولیاں 6160 ارب روپے اور نان ٹیکس آمدن 3954 ارب روپے شامل ہیں۔

 

نان ٹیکس آمدن میں سب سے بڑا حصہ اسٹیٹ بینک کے منافع (2428 ارب روپے) کا رہا، جبکہ پیٹرولیم لیوی سے 823 ارب روپے حاصل ہوئے۔ 

 

دیگر آمدن میں مختلف لیویز، رائلٹیز اور فیسیں شامل ہیں۔

 

وفاقی حکومت کی مجموعی آمدن 10,008 ارب روپے رہی، جس کے بعد جولائی تا دسمبر خالص آمدن 6392 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔