ہیئر ایکسٹینشنز میں کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز کی موجودگی کا انکشاف، سائنسدانوں کی ہنگامی وارننگ

news-banner

تازہ ترین - 12 فروری 2026

سائنسدانوں نے ہنگامی انتباہ جاری کیا ہے کہ مشہور ہیئر ایکسٹینشنز میں درجنوں ایسے کیمیکلز پائے گئے ہیں جو کینسر پیدا کر سکتے ہیں۔

 

امریکی ریاست میساچوسیٹس میں واقع سائلنٹ اسپرنگ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین نے آن لائن فروخت ہونے والی 43 معروف مصنوعات کا تجزیہ کیا، جن میں انسانی بالوں سے تیار کی جانے والی ایکسٹینشنز بھی شامل تھیں۔

 

 نتائج میں خطرناک کیمیکلز جیسے فلیم ریٹارڈنٹس، فیتھالیٹس، کیڑے مار ادویات، اسٹائرین، ٹیٹراکلوروایتھین اور آرگینو ٹنز دریافت ہوئے۔

 

پچھلی تحقیقات کے مطابق یہ مادے کینسر، ہارمونز میں بگاڑ، نشوونما کے مسائل اور مدافعتی نظام پر منفی اثرات سے منسلک ہیں۔

 

اس تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر الیسیا فرینکلن نے کہا کہ کمپنیاں شاذ و نادر ہی استعمال ہونے والے کیمیکلز کے بارے میں صارفین کو آگاہ کرتی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ طویل عرصے تک ان کے ممکنہ صحت کے خطرات سے لاعلم رہتے ہیں۔ 

 

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فائبرز براہِ راست سر اور گردن پر ہوتے ہیں، اور جب انہیں اسٹائل کرنے کے لیے گرم کیا جاتا ہے تو یہ کیمیکلز ہوا میں خارج ہو سکتے ہیں اور صارف انہیں سانس کے ذریعے اندر لے سکتا ہے۔

 

کلپ ان، ٹیپ ان، ویوز یا مائیکرو لنکس تمام قسم کی ہیئر ایکسٹینشنز اب برطانیہ اور امریکا میں بے حد مقبول ہیں اور کئی مشہور شخصیات جیسے ایلے میکفارسن، ایوانکا ٹرمپ اور ٹیلر سوئفٹ ان کے ذریعے بالوں کو گھنا اور دلکش دکھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔