پاکستان - 14 فروری 2026
فری لانسرز نے مالی سال کی پہلی ششماہی میں 55 کروڑ ڈالر سے زائد کمائے: اسٹیٹ بینک
کاروبار - 14 فروری 2026
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا ہے کہ مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر 2025) کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے کمپیوٹر اور انفارمیشن پر مبنی کام کے ذریعے 55 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ کمایا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 35 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 58 فیصد زیادہ ہے۔
اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت اور عالمی سطح پر ہنر مند ڈیجیٹل افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی مانگ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، مواد کی تخلیق اور ای کامرس شامل ہیں۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت فری لانسرز کی سہولت کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے، جن میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، سستے انٹرنیٹ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کی آسانی اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہنر مند افرادی قوت کی تیاری شامل ہے۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ فری لانسرز نے متعدد برآمدی شعبوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے صرف 6 ماہ میں 55 کروڑ ڈالر کمائے اور توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام تک یہ آمدن ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔
ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ ملک میں رجسٹرڈ فری لانسرز صرف 0.25 فیصد معمولی ٹیکس ادا کر رہے ہیں، اور حکومت و اسٹیٹ بینک کی حالیہ اصلاحات نے آمدن کو قانونی طریقے سے ملک میں لانے، غیر ملکی کرنسی کے اکاؤنٹس کھولنے اور 50 فیصد آمدن بینک میں رکھنے کے اقدامات کو آسان بنایا ہے۔
دیکھیں

