امریکا کا چین اور بھارت سمیت 16 ممالک پر نئے محصولات عائد کرنے کا عندیہ

news-banner

کاروبار - 12 مارچ 2026

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین، بھارت اور بنگلا دیش سمیت 16 بڑے تجارتی شراکت دار ممالک کے خلاف مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن کے نتیجے میں رواں موسم گرما تک نئی درآمدی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

 

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات تجارتی قانون 1974ء کی شق 301 کے تحت کی جا رہی ہیں، جو امریکا کو غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں کے خلاف جوابی اقدامات اور محصولات عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

 

تحقیقات کی زد میں آنے والے ممالک میں چین، یورپی اتحاد، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو، تائیوان، ویتنام، تھائی لینڈ، ملائیشیا، کمبوڈیا، سنگاپور، انڈونیشیا، بنگلا دیش، سوئٹزرلینڈ اور ناروے شامل ہیں، جبکہ امریکا کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار کینیڈا اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔

 

امریکی حکام کے مطابق ان تحقیقات کا مقصد ان معیشتوں کا جائزہ لینا ہے جہاں صنعتی شعبوں میں زیادہ پیداواری صلاحیت، مسلسل تجارتی سرپلس یا غیر استعمال شدہ صنعتی گنجائش موجود ہے جس سے عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔

 

امریکی حکام نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے لیے ایک الگ تحقیق شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جس میں 60 سے زائد ممالک شامل ہوں گے۔

 

 یہ اقدام چین کے سنکیانگ خطے سے متعلق پہلے سے نافذ پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر سکتا ہے۔

 

امریکا کا مؤقف ہے کہ چین کے سنکیانگ علاقے میں ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے، تاہم بیجنگ ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ امریکا کی اعلیٰ عدالت نے ٹرمپ کی عالمی محصولات سے متعلق پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نے عارضی طور پر 150 دن کے لیے 10 فیصد محصولات نافذ کیے۔

 

امریکی حکام کے مطابق نئی تحقیقات کا مقصد تجارتی خسارہ کم کرنا، ملکی صنعت کا تحفظ کرنا اور تجارتی مذاکرات میں دباؤ برقرار رکھنا ہے۔