فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کا عمل مکمل، حکومت کو 510 ملین ڈالر حاصل ہوں گے

news-banner

تازہ ترین - 12 مارچ 2026

اسلام آباد میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کے دوسرے مرحلے میں 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز کی بولی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

 

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق 2600 میگا ہرٹز سپیکٹرم بینڈ کی پوزیشننگ کے لیے بولی تین مرحلوں میں جبکہ 3500 میگا ہرٹز سپیکٹرم بینڈ کے لیے بولی پانچ مرحلوں میں مکمل کی گئی۔

 

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی حفیظ الرحمان کے ہمراہ پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان ڈیجیٹل ترقی کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور فائیو جی انٹرنیٹ سروس کے آغاز سے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو مزید فروغ ملے گا۔ 

 

انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے چند شہروں میں فائیو جی کا آزمائشی منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

 

شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے جس سے بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو جائے گا۔ 

 

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ ہوگا اور زراعت، صحت، تجارت اور سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید فروغ ملے گا۔

 

چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی حفیظ الرحمان کے مطابق پہلے اور دوسرے مرحلے کی نیلامی سے مجموعی طور پر 510 ملین ڈالر کی آمدن متوقع ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 142 ارب روپے بنتی ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اس نیلامی سے پہلے پاکستان میں صرف 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب تھا، جس کے باعث ملک کم ترین سپیکٹرم رکھنے والے ممالک میں شامل تھا، تاہم نئی نیلامی کے بعد سپیکٹرم کی مجموعی مقدار میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

 

اس موقع پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کے نمائندے نوید بٹ نے کہا کہ حکومت نے اپنا مرحلہ مکمل کر لیا ہے اور اب ٹیلی کام کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صارفین کو بہتر خدمات فراہم کریں۔

 

واضح رہے کہ اس سے قبل فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کے پہلے مرحلے میں 597 میگا ہرٹز میں سے 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم فروخت کیا گیا تھا، جس میں مختلف ٹیلی کام کمپنیوں نے حصہ لیتے ہوئے سپیکٹرم خریدا۔