امریکا کے بی 52 بمبار طیارے ایران کی جانب روانہ، خارگ تیل تنصیبات محفوظ، بغداد میں امریکی سفارتخانے پر میزائل حملہ

news-banner

دنیا - 14 مارچ 2026

 ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے اعلان کے بعد امریکا نے بی 52 بمبار طیارے ایران کی سمت روانہ کر دیے ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ میں مزید امریکی فوج تعینات کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ 

 

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ خارگ جزیرے کی تیل تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔

 

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بی 52 بمبار طیاروں کی تعیناتی کا مقصد طویل فاصلے سے حملے کی صلاحیت کے ذریعے ایرانی حکومت سے لاحق خطرات کو ختم کرنا اور مستقبل میں اس کی عسکری طاقت کو دوبارہ بحال ہونے سے روکنا ہے۔

 

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 1348 ایرانی شہید اور 17 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

 

 ایرانی حملوں میں اسرائیل میں 15 افراد ہلاک اور 2975 زخمی ہوئے جبکہ 15 امریکی بھی مارے گئے اور 140 زخمی ہوئے۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث شہادتوں کی تعداد 773 تک پہنچ گئی ہے۔

 

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ امریکا ایران میں کامیابی کا اعلان کر کے وہاں سے فوجی انخلا کر لے جبکہ اسرائیل نے ایرانی شہر تبریز کے شہریوں کو فوری طور پر شہر خالی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

 

 

ہیومن رائٹس واچ واشنگٹن کی ڈائریکٹر سارہ یاگر نے ایران میں ایک اسکول پر امریکی حملے کو جنگی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حملہ آوروں نے جان بوجھ کر بچوں سے بھرے اسکول کو نشانہ نہیں بھی بنایا تو بھی اسے محض غلطی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

ادھر حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر راکٹ اور توپ خانے سے حملے کیے ہیں۔

 

 ان حملوں میں صفد کے قریب واقع عین زیطیم فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ سرحدی قصبے بلیدہ کے قریب اسرائیلی فوجیوں پر بھی گولہ باری کی گئی۔

 

 حزب اللہ کے مطابق یہ کارروائیاں لبنان پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔

 

عراقی حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد سفارتخانے کے احاطے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ 

 

اس کے علاوہ عراق میں مزاحمتی گروپوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکی فوجی اڈوں پر آٹھ حملوں کا دعویٰ کیا ہے جن میں ڈرون اور میزائل استعمال کیے گئے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا نے کئی ماہ تک بھارت کو روس سے تیل خریدنے سے روکنے کی کوشش کی اور یورپ کو امید تھی کہ اسے روس کے خلاف مکمل امریکی حمایت ملے گی، تاہم اب دو ہفتوں کی جنگ کے بعد امریکا خود دنیا سے روسی تیل خریدنے کی درخواستیں کر رہا ہے۔

 

جرمن چانسلر نے ایران جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ کے باعث جرمنی میں توانائی کی قیمتوں پر شدید اثرات پڑے ہیں اور امریکا کے پاس خلیج فارس کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔

 

ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے متحدہ عرب امارات اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی قیادت سے متعلق مقامات کو نشانہ بنایا۔ ایرانی مشترکہ فوجی کمان کے ترجمان کے مطابق دس ایسے مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو اسرائیلی رہنماؤں سے متعلق تھے جبکہ متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس اور عراق کے شہر اربیل کو بھی میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔

 

ایرانی میڈیا کے مطابق خارگ جزیرے پر دھماکوں اور دھوئیں کے باوجود ایرانی فوج کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور جزیرے کی تیل تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچا۔ دفاعی نظام کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے جبکہ ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی توانائی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

 

ادھر امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مزید پانچ ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ہزاروں میرینز کو خطے میں بھیجنے کی منظوری دی ہے اور یہ فیصلہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

 

پاسداران انقلاب کے مطابق تبریز، اندیمشک، تہران، فیروز آباد اور بندر عباس میں فضائی دفاعی کارروائیوں کے دوران اسرائیل اور امریکا کے متعدد ڈرونز تباہ کر دیے گئے جن میں ہرماس، ایم کیو 9 اور دیگر جدید ڈرون شامل ہیں۔ حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 114 ڈرونز مار گرائے جا چکے ہیں۔

 

لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کے اجتماعات پر راکٹ حملے کیے۔

 

 سرحدی شہر کفركلا میں فاطمہ گیٹ کے مقام پر اسرائیلی فوج کے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا جبکہ شہر خیام کے جنوبی علاقے میں موجود فوجی دستوں پر بھی راکٹ داغے گئے۔

 

کویت نیشنل گارڈ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل جدان فاضل جدان نے بتایا کہ اہم مقامات کی جانب بڑھنے والے ایک ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

 

 ان کے مطابق یہ کارروائی حساس تنصیبات کے تحفظ اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کی گئی۔

 

دوسری جانب متحدہ عرب امارات سے اسرائیلی شہریوں کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے۔ دو خصوصی پروازوں کے ذریعے تقریباً 600 اسرائیلیوں کو تل ابیب منتقل کیا گیا جبکہ اسرائیلی حکام نے شہریوں کی محفوظ واپسی پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا ہے۔