دنیا - 15 مارچ 2026
دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے خاتمے کی ضرورت ہے: صدر، وزیراعظم
پاکستان - 15 مارچ 2026
اسلام آباد: صدر مملکت اور وزیراعظم نے اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور تعصب کو ختم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام امن، ہمدردی اور انصاف کا پیغام دیتا ہے اور اسے انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی علامت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو نفرت انگیز جرائم کے خلاف قانونی تحفظ کو مضبوط بنانا چاہیے اور اظہارِ رائے کی آزادی کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی تنوع کے احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کرائسٹ چرچ کا سانحہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔
صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی سطح پر مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی مختلف معاشروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں لیکن مسلمانوں کے خلاف تعصب ان کے تحفظ کو متاثر کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق نیشنل کمیشن فار مینارٹیز رائٹس ایکٹ 2025 نافذ کیا جا چکا ہے جبکہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ایک آزاد نیشنل کمیشن بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ تعصب کے خاتمے اور مکالمے کے فروغ کیلئے مشترکہ اقدامات کیے جائیں اور مذہبی عقائد کے احترام کے ساتھ مساوی قانونی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کی علامت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی اور نفرت انگیز رویوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشرتی عدم برداشت بنیادی مذہبی آزادی اور باہمی اتحاد و رواداری جیسی اقدار کو کمزور کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا دن اس بات کا اظہار ہے کہ عالمی برادری مسلمانوں کو مذہبی تعصب اور تشدد کے واقعات سے تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے۔
شہباز شریف کے مطابق مہذب معاشرے عقائد کی بنیاد پر انسانی حقوق میں فرق نہیں کرتے بلکہ باہمی احترام اور رواداری پر قائم ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلاموفوبیا کی تمام شکلوں اور اس سے جڑے ہر قسم کے رویوں کی مذمت کرتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسلام پوری انسانیت کیلئے امن اور ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے اور اسے انتہا پسند نظریات سے جوڑنا غلط تاثر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی فورمز پر ذمہ دارانہ انداز میں اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور مستقبل میں بھی مذہبی رواداری اور مسلمانوں کے تحفظ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
دیکھیں

