ذیابیطس کا نیا علاج: متعدد مریض مکمل طور پر شفایاب

news-banner

تازہ ترین - 29 مارچ 2026

امریکی محققین نے اعلان کیا ہے کہ تازہ ترین طبی آزمائش کے بعد متعدد مریض ٹائپ 1 ذیابیطس سے مکمل طور پر شفایاب ہو گئے اور انسولین کے استعمال سے آزاد ہو گئے ہیں۔

 

یونیورسٹی آف شکاگو میڈیسن ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ کی ٹیم نے ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں پر آئیلٹ خلیات کی پیوندکاری کی آزمائش کی۔

 

ٹائپ 1 ذیابیطس ایک ایسی خود کار مدافعتی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام لبلبے میں انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ 

 

بغیر انسولین کے، مریض کا خون میں شوگر خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے، اور جسم توانائی کے لیے چکنائی کو توڑ کر کیٹونز پیدا کرتا ہے، جو ڈائبیٹک کیٹو ایسیڈوسِس جیسی خطرناک حالت پیدا کر سکتے ہیں، جس سے دماغ، گردے اور دل متاثر ہو سکتے ہیں۔

 

اس آزمائش میں دس مریضوں کو آئیلٹ خلیات پیوند کیے گئے، جو لبلبے میں موجود مخصوص خلیے ہیں اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز پیدا کرتے ہیں۔

 

نتائج حیران کن تھے: صرف چار ہفتوں کے اندر تمام مریض انسولین کے بغیر خود اپنا بلڈ شوگر کنٹرول کرنے لگے اور مہنگے اضافی انجیکشنز کی ضرورت ختم ہو گئی۔