Pakistan

اسلام آباد کا رہائشی اغوا کے بعد قتل ،لاش صوابی سے برآمد، مرکزی ملزم گرفتار

اسلام آباد کا رہائشی اغوا  کے بعد قتل ،لاش صوابی سے برآمد، مرکزی ملزم  گرفتار
۷ دن پہلے

 اسلام آباد کے رہائشی فرخ افضل  کو گھر سےاغوا کرنے  کے بعد قتل کر دیا گیا ،ان کی لاش صوابی سے برآمد  کر لی گئی ،جبکہ پولیس نے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ۔

 

31 سالہ فرخ افضل کو اسلام آباد کے پوش علاقے ایف-6/1 میں واقع ان کے گھر سے اغوا کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق تین سے چار مسلح افراد  آدھی رات کے وقت  زبردستی گھر میں داخل ہوئے اورانہیں اغوا کر کے لے گئے۔

 

ملزم کی شناخت سیف اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو خیبر پختونخوا پولیس کے ایک ڈی ایس پی کا بیٹا ہے، اسے گزشتہ رات مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔

 

کوہسار پولیس نے فرخ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا، جن کا کہنا تھا کہ انہوں نے آدھی رات کے قریب شور سنا اور دیکھا کہ چار سے پانچ نامعلوم افراد ان کے بیٹے کو زبردستی لے جا رہے ہیں۔

 

جب اہلِ خانہ اور پڑوسیوں نے مداخلت کی کوشش کی تو ملزمان نے مبینہ طور پر فائرنگ کی اور فرخ کو لے کر فرار ہو گئے۔

 

رشتہ داروں کے مطابق فرخ تقریباً رات 12:04 پر گھر پہنچے تھے اور جیسے ہی وہ گاڑی سے باہر نکلے، کئی افراد نے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی۔

 

  پولیس نے بتایا کہ فرخ افضل کی لاش صوابی سے ملی ہے، جسے پوسٹ مارٹم کے لیے پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

 

رپورٹس کے مطابق فرخ افضل “حلیم گھر” فیملی سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے حال ہی میں ایف-8 میں ایک پلازہ ڈیڑھ ارب روپے میں فروخت کیا تھا، جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر اسے تاوان کے لیے اغوا کا کیس سمجھا گیا۔

 

تاہم سابق اے آئی جی آپریشنز فرحت عباس کاظمی نے ایک مختلف پہلو بیان کیا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ بلیک میلنگ کا تھا، فرخ مبینہ طور پر ایک خاتون کے ساتھ ماضی میں تعلق میں تھے اور علیحدگی کے بعد انہیں نجی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے دھمکاتے تھے۔

خاتون نے مبینہ طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے سیف اللہ سے مدد طلب کی۔ کاظمی کے مطابق ملزم نے تفتیش میں اعتراف کیا کہ فرخ کو بلیک میلنگ کے بدلے میں اغوا کیا گیا۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ سوات منتقل کرتے وقت فرخ نے مزاحمت کی جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہو گئی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں