Pakistan

مہاجرین نشستوں کے خاتمے کی بات آئین پر حملہ ہے، راجہ فاروق حیدر کا سخت ردعمل

مہاجرین نشستوں کے خاتمے کی بات آئین پر حملہ ہے، راجہ فاروق حیدر کا سخت ردعمل
۱ منٹ پہلے

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے مہاجرین نشستوں کے خاتمے سے متعلق وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین نشستیں آزاد کشمیر کے آئین کا حصہ ہیں اور آئینی ترمیم کے بغیر ان میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت ریاست کے نظریاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے پر تلی ہوئی ہے۔ 

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے مہاجرین نشستوں کے حوالے سے وزیراعظم آزاد کشمیر کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین نشستیں آزاد جموں و کشمیر کے آئین کا باقاعدہ حصہ ہیں اور آئینی ترمیم کے بغیر ان کے خاتمے یا تبدیلی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ 

اپنے بیان میں راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق تمام آئینی و قانونی ذمہ داریاں الیکشن کمیشن کی ہیں، جبکہ حکومت کا کردار صرف انتظامی معاونت تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین نشستوں سے متعلق وزیراعظم کے بیان سے ’بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے‘ اور اب اصل مقاصد کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ 


انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاجرین نشستوں پر منتخب وہ اراکین اسمبلی جو پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت ریاست جموں و کشمیر کے نظریاتی تشخص کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 

راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ مہاجرین ریاست جموں و کشمیر کا اہم حصہ ہیں اور انہی نشستوں کی وجہ سے آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کو پوری ریاست کی نمائندہ حکومت تصور کیا جاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی کہتے رہے ہیں کہ ’میں آخری وزیراعظم ہوں‘، اور موجودہ صورتحال ان کے مؤقف کا ثبوت ہے۔ ان کے بقول ان کے بعد آنے والی حکومتیں ریاست کے نظریاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں۔ 

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ انہیں لاہور میں اپنی جماعتی قیادت سے ملاقات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ موجودہ حکمران روزانہ اپنی قیادت کے سامنے ’حاضری‘ دیتے ہیں اور وہاں سے ہدایات لیتے ہیں۔ 


راجہ فاروق حیدر خان نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) اپنی سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی اپنے ٹکٹ ہولڈرز کو کروڑوں روپے کے فنڈز فراہم کر رہی ہے اور ایسی آسامیوں پر بھی سیاسی تقرریاں کی جا رہی ہیں جہاں مستقل بھرتیاں این ٹی ایس یا تھرڈ پارٹی کے ذریعے ہونی چاہئیں۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہیں اور اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر کی جانب سے الیکشن کمیشن کو دی گئی درخواست پر فوری کارروائی ہونی چاہیے۔ 

راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) دوبارہ اقتدار میں آئی تو پیپلز پارٹی حکومت کے تمام ’غیر قانونی اور سیاسی اقدامات‘ کو کالعدم قرار دیا جائے گا۔ 

انہوں نے سرکاری ملازمین، خصوصاً افسران، پر زور دیا کہ وہ قواعد و ضوابط کی پاسداری کریں کیونکہ وہ ریاست کے ملازم ہیں، کسی سیاسی جماعت کے نہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں