الیکشن کمیشن کی اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے وفاقی حکومت کو فوری اقدامات کی ہدایت
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں الیکشن کمیشن کے اراکین، سیکریٹری الیکشن کمیشن، سیکرٹری وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
چیف الیکشن کمشنر نے اپنے افتتاحی کلمات میں بلدیاتی حکومتوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں مقامی حکومتیں موجود ہیں، تاہم پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی قوانین میں تبدیلیوں کے باعث انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک آئینی تقاضا ہے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی اداروں کی مدت 14 فروری 2021 کو ختم ہو چکی ہے، مگر تاحال نئے انتخابات نہیں کرائے جا سکے۔ مزید بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے 10 جنوری 2026 کو آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں ترامیم کیں، جن کے بعد انتخابات کے لیے ٹاؤن کارپوریشنز کی حدود، یونین کونسلوں کی تعداد، نقشہ جات، رولز اور دیگر ضروری ڈیٹا الیکشن کمیشن کو فراہم کیا جانا ضروری ہے، تاہم یہ معلومات ابھی تک مہیا نہیں کی گئیں۔
سیکریٹری وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ چیف کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ ٹاؤن کارپوریشنز کی حدود اور یونین کونسلوں کی تعداد سے متعلق مجوزہ نوٹیفکیشن وزارت داخلہ کو بھجوا دیا گیا ہے، جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی اور بعد ازاں وفاقی کابینہ سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن نے سیکریٹری وزارت داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ہدایت کی کہ متعلقہ قائمہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ سے فوری رجوع کرکے ضروری نوٹیفکیشنز جاری کروائے جائیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ اگر پیشرفت نہ ہوئی تو معاملہ باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر وفاقی حکومت کے اعلیٰ سطح پر بھی اٹھایا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مطلوب تمام ڈیٹا، نقشہ جات، قوانین اور رولز میں ترامیم فوری فراہم کی جائیں تاکہ حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کرکے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔