Pakistan

پنکی کا جسمانی ریمانڈ ، پولیس نےتحویل میں لے لیا، نیٹ ورک کی تفصیلات سامنے آگئیں

پنکی کا جسمانی ریمانڈ ، پولیس نےتحویل میں لے لیا، نیٹ ورک  کی تفصیلات سامنے آگئیں
۱ منٹ پہلے

کراچی کی مقامی عدالت نے ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کا تین روزکا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا، جس کے بعد کراچی پولیس نے سینٹرل جیل سے ملزمہ کو تحویل میں لے لیا۔ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ملزمہ کو ڈسٹرکٹ سٹی تھانے میں درج مقدمے میں تحویل میں لیا گیا ہے۔ درج مقدمے میں پولیس کی مبینہ غفلت سامنے آگئی، پولیس کے قریبی ایک ذریعے کے مطابق اسے حساس ادارے نے تحویل میں لیا تھا جس کے بعد اسے گارڈن پولیس کے حوالے کیا گیا ، گارڈن پولیس نے ہی اس کی گرفتاری ظاہر کی،ملزمہ کو پرٹوکول دینے پر ایس ایچ او گارڈن ، آئی او اور ایس آئی یو کو معطل کردیا گیا،ضوابط کی خلاف ورزی پر ایس ایس پی ساؤتھ سے انکوائری واپس لے کر ڈی آئی جی ویسٹ کے سپرد کردی گئی،خصوصی ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا، پنکی کی طرف سے منشیات نیٹ ورک اور کوکین کی لیبارٹری بنانے کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔

 

 تفصیلات کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت نے ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کا تین روزکا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔عدالت کے روبرو بدھ کو ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی دوبارہ استدعا کی گئی، جس پر عدالت نے ملزمہ کا 3 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا کی درخواست پر ریمانڈ منظور کیا گیا۔ ماتحت عدالت نے انمول عرف پنکی کو پولیس ریمانڈ کے بجائے جیل بھیج دیا تھا۔

 

 پنکی کے خلاف درج مقدمے میں پولیس کی مبینہ غفلت بھی سامنے آئی ہے۔ملزمہ کے خلاف درج مقدمے میں بتایا گیا کہ انمول عرف پنکی کو گارڈن میں رہائشی عمارت کے فلیٹ سے گرفتار کیا گیا۔ لیکن فلیٹ میں رہائش پذیر خاندان نے موقف اختیار کیا کہ پنکی کو ہم نہیں جانتے ہیں۔متاثرہ خاندان کا کہنا تھا کہ جس فلیٹ کا پتہ مقدمے میں ڈالا گیا، وہاں 8 سال سے کرائے پر ہم رہائش پذیر ہیں۔متاثرہ خاندان نے کہا کہ میڈیا پر ملزمہ کی گرفتاری ہمارے فلیٹ سے ہونے کی خبر آنے پر مالک مکان نے فلیٹ خالی کرنے کا کہہ دیا۔متاثرہ خاندان نے کہا کہ بتایا جائے کہ پولیس نے ہمارے گھرکا پتہ ایف آئی آر میں کیسے ڈالا؟پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہم سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔


عدالت میں پیشی پر ملزمہ پنکی کو پرٹوکول دینے پر ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال، آئی او سعید احمد اور ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال کو معطل کردیا گیا ،عدالت میں پیشی کے دوران ضوابط کی خلاف ورزی کے معاملے پر ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی سے انکوائری واپس لے لی گئی۔ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ نئے انکوائری آفیسر مقرر کیے گئے ہیں۔انکوائری آفیسر کو 3 روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی سخت ہدایت کر دی گئی۔ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے نامزدگی کا باقاعدہ حکم نامہ جاری کر دیا۔  کراچی پولیس چیف کے حکم پر بنائی گئی خصوصی ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ جوایس ایچ او، ایس آئی اور پولیس پارٹی کے بیانات لے گی جبکہ یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ ملزمہ کو خلاف ضوابط عدالت میں کیوں پیش کیا گیا۔ملزمہ کو ہتھکڑی لگا کر اور چہرہ ڈھانپ کر کیوں عدالت نہیں لے جایا گیا؟ ۔تحقیقاتی ٹیم نے گارڈن پولیس سٹیشن میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی دیکھنے کا فیصلہ کر لیا۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ کو پولیس سٹیشن میں کس انداز میں اور کہاں رکھا گیا؟ جانچ ہوگی۔ ملزمہ کا تھانے کے اندر افسران و اہلکاروں کے ساتھ رویہ کیسا تھا؟ رپورٹ کا حصہ بنایا جائے گا، گارڈن پولیس سٹیشن کے اہلکاروں نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کیوں کی؟ کھوج لگایا جائے گا۔

 

ادھرانمول عرف پنکی کی طرف سے منشیات نیٹ ورک بنا نے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔ انمول پنکی 14 سال کی عمر میں ماڈل بننے کے لیے نکلی اور پارٹیوں میں جانا شروع کیا ہے، انمول کی وکیل سے شادی ہوئی جو عالمی کوکین گینگ میں کام کرتا تھا، شادی کے بعد ملزمہ نے کوکین کا کام شوہر کے ساتھ شروع کیا ہے۔


وکیل شوہر سے طلاق کے بعد پنکی نے پولیس افسر سے شادی کی، تین بھائیوں کی مدد سے کوکین کا نیٹ ورک قائم کرکے ڈیلر بن گئی، انمول نے کوکین بنانے کا طریقہ انٹرنیٹ سے سیکھا بعد میں اپنا برانڈ بھی بنا لیا ہے۔

 

ملزمہ کو پانچ سال قبل پنجاب پولیس نے گرفتار کیا اور مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے رشوت لے کر چھوڑا، پنکی لاہور سے دو خواتین کے ذریعے ٹرین سے کوکین کے پانچ پیکٹ کراچی بھیجتی تھی۔سٹیشن سے بائیک رائیڈرز منشیات کے الگ الگ پیکٹ لے کر ڈیلرز تک پہنچاتے تھے، ڈیلرز کی مدد سے کوکین شہریوں کو بیچی جاتی، پیسے اکاؤنٹ سے ٹرانسفر ہوتے تھے، ملزمہ پنکی کے نیٹ ورک میں کوئی ایک دوسرے سے نہیں ملتا تھا۔

 

ملزمہ پنکی نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے، گروپ میں اس کے بھائی ناصر کی گرل فرینڈ بھی شامل ہے، جس کی مدد سے کراچی کی پارٹیوں میں کوکین سپلائی کی جاتی رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ملزمہ انمول کے دو بھائیوں کو ماضی میں کراچی پولیس گرفتار کرچکی ہے، ملزمہ کوکین سے ماہانہ کروڑوں روپے کماتی تھی۔

 

اس نے کراچی سے کوکین کے دھندے کا آغاز کیا۔ اس دوران اسے درخشاں پولیس نے حراست میں لیا اور پھر یہ ضمانت پر باہر آئی اور وہیں سے دوبارہ اپنے دھندے کا آغاز کیا،انمول کے بارے میں ایک ذریعے نے معلومات دی ہیں کہ جب اس نے ضمانت حاصل کرنے کے بعد پھر سے کوکین کا دھندا شروع کیا تو ایک بار پھر اسے گرفتار کرنے کے لیے پولیس متحرک ہوئی، تاہم پنکی نے کراچی کو خیر آباد کہا اور دھندے سمیت لاہور منتقل ہو گئی۔


انمول نےباقاعدہ ایک لیبارٹری قائم کی،  جہاں وہ کیپسول بناتی تھی ۔ ایک کیپسول جس کی قیمت 10 ہزار روپے بتائی جا رہی ہے۔ اس کیپسول میں ایفاٹین اور ٹیٹامائین جیسے کیمیکل ملا کر کوکین کو مزید مہلک بنایا جاتا تھا۔ایک اور کیپسول کی قیمت 20 ہزار روپے ہے ، ایک کیپسول جس کا نام گولڈ بتایا جا رہا ہے، اس کی قیمت 40 ہزار روپے تک تھی۔ انمول ان منشیات کو ڈبوں میں پیک کرتی تھی جس پر باقاعدہ برانڈ نگ ہوئی ہوتی تھی، ان ڈبوں پر ڈان نام ہی کافی ہے لکھا ہوتا تھا۔


پولیس ذرائع کے مطابق وہ ڈبیاں پولیس اپنی تحویل میں لے چکی ہے، ان ڈبیوں کے بارے میں پولیس کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ سنہری اور سفید رنگ کی ہیں اور انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور انہی میں کوکین فراہم کی جاتی تھی۔


پنکی کا اصل ہدف 16 سے 20 برس کے نوجوان تھے جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل تھے، انہیں کوکین کا پہلے عادی بنایا جاتا تھا اور پھر انہی کے ذریعے کوکین سپلائی بھی کی جاتی تھی، کہا جا رہا ہے کہ اس کے زیادہ گاہک امیر گھرانوں کے نوجوان تھے، ساتھ ہی پارٹیوں میں بھی یہ کوکین سپلائی کرتی تھی اور شوبز شخصیات بھی اس سے کوکین خریدتی تھیں۔ 


پنکی 10 مقدمات میں پولیس کو انتہائی مطلوب اور مفرور تھی، پنکی کے خلاف 2021 جولائی میں گزری تھانے کی حدود میں منشیات کیس درج ہوا تھا،کیس میں خاتون اور مرد گرفتار ہوئے جنہوں نے انکشاف کیا پنکی کے کہنے پر سپلائی کی،کوکین ڈیلر پنکی کے خلاف دوسرا کیس درخشاں تھانے میں 2021 نومبر میں درج ہوا تھا، دوسرے کیس میں بھی ملزم گرفتار ہوا جس نے بنایا پنکی کے کہنے پر منشیات سپلائی کررہا تھا ۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں