مصنوعی ذہانت کی وجہ سے انسانی دماغ پر پڑنے والے منفی اثرات کو کیسے روکا جائے؟
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال سے انسانی دماغی صلاحیتوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے ماہرین نے نئی تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے مطابق ضرورت سے زیادہ انحصار تخلیقی صلاحیت، یادداشت اور تنقیدی سوچ کو متاثر کر سکتا ہے۔
بی بی سی کے مطابق حالیہ تحقیق سے ثابت ہے کہ چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز کے زیادہ استعمال سے افراد میں سوچنے کے عمل کو ‘آؤٹ سورس’ کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس سے ذہنی مشق کم ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انسان خود غور و فکر کم کرے تو وقت کے ساتھ اس کی صلاحیتیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔
امریکا کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے نیورو سائنسدان ایڈم گرین کے مطابق ‘اگر آپ خود سوچنے کا عمل کم کر دیں تو اس قسم کی ذہنی صلاحیت بتدریج ختم ہو سکتی ہے’۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے آسانی سے تیار شدہ مواد بظاہر بہتر نظر آتا ہے، لیکن اس میں وہ ذہنی محنت شامل نہیں ہوتی جو دماغ کو مضبوط بناتی ہے۔ اس عمل کو ایک ماہر نے یوں بیان کیا کہ ‘یہ ایسے ہے جیسے جم میں روبوٹ آپ کی جگہ وزن اٹھائے، آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا’۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اے آئی پر زیادہ انحصار کرنے والے افراد تنقیدی سوچ کے ٹیسٹ میں کم اسکور حاصل کرتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے فیصلے خود کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس رجحان کو ماہرین ‘علمی ہتھیار ڈال دینا’ قرار دیتے ہیں۔
مزید برآں، مائیکروسافٹ ریسرچ کی ایک تحقیق کے مطابق وہ افراد زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں جو کسی موضوع سے کم واقفیت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ اے آئی کے جوابات کو پرکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کا استعمال مکمل طور پر نقصان دہ نہیں، بلکہ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر یہ دماغی بوجھ کم کر کے اہم کاموں پر توجہ دینے میں مدد دے تو فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جیسے جی پی ایس اور گوگل میپ کے زیادہ استعمال سے موجودہ انسان کی سمت شناسی کی صلاحیت متاثر ہوئی اور گوگل جیسے سرچ انجنز نے یادداشت کو کمزور کیا، ویسے ہی اے آئی بھی انسانی ذہن کی تخلیقیت اور تنقیدی صلاحیتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے تجویز دی ہے کہ افراد اے آئی استعمال کرتے وقت پہلے خود سوچنے کی کوشش کریں، نوٹس بنائیں، اور تخلیقی کاموں میں ابتدا خود کریں تاکہ دماغی صلاحیت برقرار رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کی اصل طاقت اس کی منفرد اور غیر متوقع سوچ میں ہے، اور مستقبل میں یہی صلاحیت سب سے زیادہ اہمیت اختیار کرے گی۔