بھارت کو ہمارے جواب پر سفید جھنڈا لہرانا پڑا۔محسن نقوی
پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ملک بھر میں تقریبات جاری ہیں اور اس دوران وزارتِ داخلہ سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل رہی، جس کے وہ خود عینی شاہد ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ملڑی سیکریٹری نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے کہا کہ آپ بنکر میں چلے جائیں صدر پاکستان نے جواب دیا میری شہادت یہاں لکھی ہے یہاں ہی ہو گی۔ ان کے مطابق صدر اور وزیراعظم پاکستان جنگ کے دوران کسی بنکر میں نہیں گئے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے معرکۂ حق کے دوران غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران انڈیا کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے اور مختلف پاکستانی شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ انڈین میڈیا گھنٹوں تک یہ دعوے کرتا رہا کہ پاکستانی ڈرونز نئی دہلی میں وزیراعظم ہاؤس اور دیگر حساس مقامات تک پہنچ گئے۔ انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان میں داخل ہونے والے بیشتر ڈرونز کو سرحد عبور کرتے ہی یا شہری حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی مار گرایا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ’ان انڈین حملوں کے نتیجے میں پاکستان کے نوجوان شہید ہوئے، تاہم پاکستان نے جارحیت کا بھرپور دفاعی جواب دیا۔‘
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے جوابی اقدامات کے بعد انڈیا کو سفید جھنڈا لہرانا پڑا اور جنگ بندی کی اپیل کرنا پڑی۔ ان کے مطابق پاکستانی نوجوانوں نے سائبر حملوں کو بھی کامیابی سے ناکام بنایا، اور یہ سب اس نوعیت کی جنگ میں پہلی بار ہوا۔
وزیر داخلہ نے پاکستانی میڈیا کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران قومی میڈیا نے بہترین کارکردگی دکھائی اور پوری قوم کو متحد رکھا، جبکہ انڈین میڈیا مسلسل دباؤ اور انتشار کا شکار رہا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان نے پہلے ہی انڈیا کو واضح پیغام دے دیا تھا کہ ہم چھپ کر وار نہیں کریں گے، اور جب بھی ردِعمل دیں گے کھل کر اور سامنے سے دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ایک موقع پر پاکستان کی ایک بیس پر 16 میزائل فائر کیے گئے، تاہم مسلح افواج صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ تھیں۔ ان کے مطابق 16 میں سے 14 میزائل بروقت ناکارہ بنا دیے گئے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ہدف انتہائی محدود جگہ پر تھا، اس کے باوجود پاکستان نے کامیابی حاصل کی اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی مدد سے ممکن ہوا۔‘
محسن نقوی نے کہا کہ انڈین جنگی طیارے اور حساس علاقوں کی سرگرمیاں پاکستان کے ریڈار پر تھیں۔ صورتحال واضح ہونے کے بعد انڈیا نے خود جنگ بندی کی طرف قدم بڑھایا۔ ان کے مطابق انڈین اداروں کے سربراہان نے بھی تسلیم کیا کہ انھیں اس آپریشن میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اس کامیابی میں پاکستان کی مسلح افواج اور ایجنسیاں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہیں، اور انڈیا میں ہونے والی حکمتِ عملی کے حوالے سے معلومات پہلے سے موجود تھیں، جن سے عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار کلیدی تھا اور وہ ائیر چیف کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے، جبکہ نیول چیف بھی اسی رابطے کا حصہ تھے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی مشترکہ فیصلہ سازی کی اس سے قبل مثال نہیں ملتی، اور ایسے بڑے فیصلوں کے لیے غیر معمولی جرات درکار ہوتی ہے، جس کے نتائج آج پوری دنیا کے سامنے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ جنگ کے دوران جو کچھ ہوا، پوری دنیا نے دیکھا، اور پاکستان کی کامیابیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان صورتحال غیر معمولی حد تک آگے بڑھ چکی تھی اور دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز تک لانا آسان نہیں تھا۔