جو دہلی کے ساتھ کیا وہی کابل کے ساتھ کریں گے۔خواجہ آصف
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کی طالبان حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو دہلی کے ساتھ کیا، وہی کابل کے ساتھ کریں گے۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ کابل حکومت بھارت کی پراکسی بنی ہوئی ہے، کابل ہمیں دہشت گردی روکنے کی یقینی دہانی نہیں کروا رہا۔
انہوں نے کہا کہ دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں، چاہے مشرقی سرحد ہو یا مغربی، اس وقت دونوں سرحدوں پر ایک ہی دشمن ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے 3 ملکوں کے ساتھ مل کر ان کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، قطر ، سعودی عرب اور ترکیہ نے بھی مذاکرات میں ہمارا ساتھ دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج غیر مشروط شہادتیں دے رہی ہے، اگر کوئی بچہ سرحد پر جا کر اپنی جان دیتا ہے اس کی شناخت پاکستان ہوتی ہے۔
وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ لمبے عرصے تک کے پی حکومت کا تعاون نہیں تھا تاہم اب ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان سب کو معرکہ حق کی تقریب میں بلایا گیا کوئی نہیں آیا، ان کا نام نہیں لینا چاہتا جنہیں بلایا گیا۔انھوں نے بتایا کہ اس موضوع پر کابل حکومت کے ساتھ ’19، 19 گھنٹے طویل گفت و شنید ہوئی‘ اور وہ ’زبانی کلامی بات کرنے کو تیار ہیں لیکن لکھنے کے لیے تیار نہیں۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ افغانستان سے بات چیت میں قطر، ترکی اور سعودی عرب نے کردار ادا کیا لیکن ’کوئی حل نہیں نکلا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں طالبان حکومت کی ’منت کی کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دیں، جن اڈوں سے ان کی سہولت کاری ہو رہی ہے، انھیں ختم کر دیں، لیکن وہ اس بات پر آتے ہی نہیں ہیں۔‘
وزیر دفاع نے کہا، اس کا تو پھر ایک ہی متبادل ہے کہ ’تنگ آمد بجنگ آمد، پھر تو جنگ ہی ہو گی۔
خواجہ آصف کے مطابق ’ہو سکتا ہے کسی تیسرے ملک کے ذریعے اس وقت بھی رابطے کی کوشش ہو رہی ہو‘ لیکن وہ اس بارے میں حتمی طور پر نہیں بتا سکتے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ طویل عرصے تک وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت میسر نہیں تھی لیکن ’اب دہشت گردی کے خلاف وہ فوج اور وفاق کے ساتھ کھڑے ہیں۔