پاکستان فیصلہ کرےجغرافیے کا حصہ رہنا چاہتاہےیاتاریخ کا۔بھارتی آرمی چیف کی ہرزاسرائی
بھارتی آرمی چیف جنرل او پندرا دِویدی نے ایک مرتبہ پھر ہرزا سرائی اور الزام عائد کرتے ہوئےکہا ہے کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دینا اور بھارت کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیے کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا تاریخ کا۔
نئی دہلی میں “یونیفارم انویلڈ” کی جانب سے منیک شا سینٹر میں منعقدہ ایک انٹریکٹو سیشن کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ اگر گزشتہ سال آپریشن سندورجیسے حالات دوبارہ پیدا ہوں تو بھارتی فوج کا ردعمل کیا ہوگا۔
اس پر آرمی چیف نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا رہا اور بھارت کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھتا رہا تو اسے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیے کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا تاریخ کا۔
یہ ریمارکس ایک تعارفی سیشن کے دوران دئیے گئے۔ جنرل دِویدی نے کہا کہ اگر دوبارہ اشتعال دلایا گیا تو بھارت کا فوجی ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا اور اس میں پہلے جیسی احتیاط یا تحمل شامل نہیں ہوگا۔
اسی پروگرام میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی فوج اخلاقی اصولوں کے مطابق کارروائی کرتی ہے اور ماضی میں دہشت گرد ٹھکانوں پر حملے اس طرح کیے گئے کہ مذہبی عبادت (جیسے نماز) کے اوقات میں جانی نقصان سے گریز کیا گیا۔