ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مبینہ تلخ کلامی، حقیقت یا سیاسی بیانیہ؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو فون پر سخت الفاظ کہنے اور ان پر برہمی کا اظہار کرنے کی خبریں بین الاقوامی میڈیا میں زیرِ بحث ہیں، تاہم سیاسی ماہرین نے ان رپورٹس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
حال ہی میں امریکی نیوز ویب سائٹ "ایگزیوس" نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران نیتن یاہو کو لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان مبینہ اختلافات کے باوجود اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی عملی تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی خبریں سامنے آئی ہوں۔ اس سے قبل غزہ جنگ کے دوران سابق امریکی صدر جو بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان بھی اختلافات کی اطلاعات سامنے آتی رہی تھیں۔
نیشنل ایرانی امریکن کونسل ایکشن کے پالیسی ڈائریکٹر رائن کوسٹیلو کا کہنا ہے کہ اب امریکی صدور کے نیتن یاہو پر نجی طور پر غصے کی خبروں کا مذاق اڑایا جانے لگا ہے کیونکہ اصل اہمیت عملی پالیسی اور زمینی حقائق کی ہوتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ڈاؤن سے وابستہ ازابیل ہیسلپ نے بھی ان رپورٹس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو نیتن یاہو کو امریکی پالیسی کی خلاف ورزی پر ڈانٹتے ہیں، جبکہ حقیقت میں اسرائیل کو وہی حمایت حاصل ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے پاس اسرائیلی پالیسیوں پر کوئی حتمی اختیار نہیں اور وہ بھی اپنے پیشرو امریکی صدور کی طرح اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے جھکتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث ٹرمپ کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ امریکا میں ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایک ایسی جنگ میں امریکا کو شامل کرنے کی اجازت دی جو امریکی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
دوسری جانب ٹرمپ عوامی سطح پر نیتن یاہو کی مسلسل حمایت کرتے رہے ہیں اور ماضی میں انہیں ایک ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کی سینیئر فیلو نگار مرتضوی کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان مبینہ تلخ گفتگو کی خبریں ممکنہ طور پر ٹرمپ کو اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والے رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہو سکتی ہیں تاکہ جنگ پر عوامی غصے کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال بیانات یا لیک ہونے والی معلومات نہیں بلکہ عملی پالیسیاں ہیں، کیونکہ یہی چیز زمینی حقائق پر اثر انداز ہوتی ہے۔
دوسری جانب ایگزیوس نے اپنی رپورٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹنگ پر قائم ہے اور ماضی میں بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان سخت گفتگو کے باوجود دونوں رہنما ایران اور دیگر اہم معاملات پر تعاون کرتے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا اسرائیل کو فوجی امداد اور سفارتی حمایت فراہم کرتا رہے گا، اس نوعیت کی خبریں عملی تبدیلی کے بجائے سیاسی بیانیے کا حصہ سمجھی جائیں گی۔