ٹرمپ کا دعویٰ، ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر متفق، مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں ان کی ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان موجود ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز "پوڈ فورس ون" پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے ہی اس بات پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور ایرانی قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کر رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے لبنان کے معاملے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کا بھی اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں پر وہ خوش نہیں تھے اور اس حوالے سے ان کی نیتن یاہو کے ساتھ سخت گفتگو بھی ہوئی۔
ٹرمپ نے کہا، "میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، لیکن لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر مجھے تشویش ضرور تھی۔"
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے کے باوجود ان کے اور اسرائیلی وزیراعظم کے تعلقات بدستور اچھے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
امریکی صدر کے ان بیانات کو ایران کے جوہری پروگرام، امریکا ایران مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔