مہاجرین نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پرفیصلہ محفوظ
سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں مہاجرین کی نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
چیف جسٹس راجہ سعید اکرم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس دوران صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے آئینی سوالات پر فریقین اور عدالتی معاونین کے تفصیلی دلائل سنے گئے۔
سماعت کے دوران راجہ سجاد ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 33 کے تحت اسمبلی کو مکمل قانون سازی کا اختیار حاصل ہے اور اس معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بھی اپنی رائے واضح کر چکی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملہ ہائی پاور کمیٹی میں بھی زیرِ غور لایا جانا چاہیے تھا تاکہ اس پر مزید مشاورت کی جا سکے۔
سماعت کے دوران وفاقی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حوالہ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔
بیرسٹر ہمایوں نواز، راجہ صداقت حسین اور سردار عبدالرازق نے بھی مختلف آئینی اور قانونی نکات پر اپنے دلائل عدالت کے سامنے رکھے۔
تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے ڈویژن بینچ نے صدارتی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
عدالت نے ہدایت جاری کی ہے کہ سپریم کورٹ اپنی آئینی رائے کل صدر آزاد کشمیر کو ارسال کرے گی۔
یہ معاملہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص نشستوں سے متعلق آئینی اور قانونی تشریحات کے تناظر میں اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔