جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے نمٹنے کا فیصلہ کر لیا،وزیراعظم آزاد کشمیر
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے نمٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حالات مزید کشیدہ ہوئے تو آزاد کشمیر میں ایمرجنسی کے نفاذ کا امکان بھی موجود ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بلیک میلنگ کی سیاست کر رہی ہے اور ہر بار مطالبات تسلیم ہونے کے بعد نئے مطالبات سامنے لے آتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی اور حکومت ریاستی نظام کو مفلوج کرنے کی ہر کوشش کا قانونی دائرے میں رہتے ہوئے مقابلہ کرے گی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے حقوق اور مراعات کا دیگر علاقوں سے منصفانہ موازنہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے وزراء کی تنخواہیں آزاد کشمیر کے وزراء سے کئی گنا زیادہ ہیں۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے بجلی لوڈ سے متعلق سرمایہ کاروں کے واجبات معاف کروانے کے بعد مراعات کے خاتمے کا مطالبہ کرنا دوہرا معیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، تاہم ریاستی اداروں اور نظامِ حکومت کو مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے حکومتی قیادت کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی جا رہی ہے، جو سیاسی اور جمہوری روایات کے منافی ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے بتایا کہ موجودہ صورتحال پر غور کے لیے آج اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، عوامی معاملات اور آئندہ انتخابات سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
فیصل ممتاز راٹھور کے مطابق ان کی چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے ملاقات بھی طے ہے، جس میں وہ پارٹی قیادت کو آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور انتخابی حکمت عملی سے آگاہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران تعلیم، انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پسماندہ علاقوں میں سکولوں، کالجوں اور دیگر عوامی سہولیات کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے حل، ریاستی استحکام، امن و امان اور ریاستی رٹ کے قیام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔