امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ کے 100 دن مکمل، ہزاروں ہلاکتیں اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات
امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو 100 دن مکمل ہو گئے ہیں، جبکہ اس تنازع کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے نکل کر عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری تک پھیل چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں جنگ کے جلد خاتمے کی امید ظاہر کی تھی، تاہم 100 دن گزرنے کے باوجود کشیدگی برقرار ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران 7 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایران، لبنان، اسرائیل اور امریکی فوج سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق ایران میں 30 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ لبنان میں بھی 10 لاکھ سے زیادہ شہری اپنے گھروں سے محروم ہو گئے۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی، جس کے باعث عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور مال برداری کے اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ایندھن، خوراک، کھاد اور صنعتی مصنوعات کی لاگت کو بھی متاثر کیا، جس کے نتیجے میں کئی ممالک میں مہنگائی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
جنگ کے دوران عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جبکہ جنگ بندی اور مذاکرات کی خبروں پر بعض اوقات وقتی بہتری بھی سامنے آئی۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے سفارتی کردار ادا کیا، تاہم اب تک کسی جامع معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کی کمی مستقل امن معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب حالیہ سرویز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی کمی دیکھی گئی ہے، جس کی ایک وجہ جنگ کے معاشی اور سیاسی اثرات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ ہفتوں میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے مستقبل پر بھی گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔