علی بابا،بی وائے ڈی،بائیڈو چینی فوج سے منسلک کمپنیوں کی فہرست میں شامل
امریکا نے علی بابا، بی وائے ڈی اور بائیڈو کو چینی فوج سے منسلک کمپنیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔
امریکا کے محکمۂ دفاع نے چین کی بڑی کمپنیوں علی بابا، بی وائے ڈی اور بائیڈو کو ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کے چینی فوجی نظام سے روابط موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کی اس فہرست میں شامل کمپنیوں کی تعداد بڑھ کر 188 ہو گئی ہے جبکہ 2025ء میں یہ تعداد 134 تھی۔ اس فہرست میں شامل اداروں پر امریکا میں دفاعی معاہدوں میں حصہ لینے پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
چین کے سفارت خانے نے امریکی فیصلے کو امتیازی قرار دیتے ہوئے اس پر سخت ردِعمل دیا اور کہا کہ چینی کمپنیاں ان ممالک کے قوانین کی مکمل پابندی کرتی ہیں جہاں وہ کام کرتی ہیں۔
علی بابا نے بھی اپنے ردِعمل میں اس فیصلے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کسی فوجی منصوبے کا حصہ نہیں اور قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب بی وائے ڈی اور بائیڈو کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ یہ چین کی فوجی اور سول ٹیکنالوجی کے انضمام کی حکمتِ عملی میں معاونت کرتی ہیں۔
اس فہرست میں روبوسینس ٹیکنالوجی اور یونٹری روبوٹکس جیسی دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی شامل کی گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے امریکا اور چین کے درمیان پہلے سے جاری تجارتی اور ٹیکنالوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔