Breaking News

بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کا حکومتی منصوبہ، مگر آئی ایم ایف کا مؤقف کیا ہے؟

بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کا حکومتی منصوبہ، مگر آئی ایم ایف کا مؤقف کیا ہے؟
۳ دن پہلے

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی مختلف تجاویز تیار کر لی ہیں۔ تاہم ان تجاویز پر عمل درآمد اور حتمی منظوری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتائج سے مشروط ہوگی۔

 

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کے مجوزہ ٹیکس ریلیف پیکیج کے دائرہ کار کو محدود کر دیا ہے اور کاروباری شعبوں سمیت مختلف سیکٹرز کو وسیع پیمانے پر ٹیکس رعایتیں دینے کی سخت مخالفت کی ہے۔ اس صورتحال کے بعد حکومت نے اپنی توجہ بنیادی طور پر تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے پر مرکوز کر دی ہے۔

 

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس ریلیف سے متعلق متعدد اہم تجاویز تیار کرکے وزیر اعظم کو ارسال کر دی ہیں۔ ان میں ماہانہ 2 لاکھ سے 3 لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی سفارش شامل ہے۔

 

حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام سے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ زیادہ آمدنی والے تنخواہ دار افراد کے لیے بھی ٹیکس سلیبز میں تبدیلی کے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔

 

دوسری جانب وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر دیگر ٹیکس اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں، تاہم بیشتر تجاویز پر عمل درآمد کے لیے آئی ایم ایف کی منظوری لازمی ہوگی۔

 

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارتِ خزانہ کی ٹیم 10 جون سے قبل آئی ایم ایف حکام کو ان سفارشات سے آگاہ کرے گی تاکہ انہیں بجٹ کا حصہ بنانے کی منظوری حاصل کی جا سکے۔

 

ماہرین کے مطابق گزشتہ برسوں میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بڑھا ہے، جس سے متوسط طبقے کی قوتِ خرید متاثر ہوئی ہے۔ اگر ٹیکس میں کمی کی جاتی ہے تو اس سے لاکھوں ملازمین کو ریلیف مل سکتا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں