امریکی صحافی کیس ،طالبان کے سابق کمانڈرنجیب اللہ کو 42 سال قید کی سزا
نیویارک کی ایک عدالت نے طالبان کے سابق کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈ اور ان کے دو ساتھیوں کے اغوا کے جرم میں 42 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
امریکی وفاقی پراسیکیوٹرز نے منگل 9 جون کو اعلان کیا کہ نجیب اللہ نے 2008 میں امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈ، ان کے افغان مترجم اور ڈرائیور کے اغوا میں براہِ راست کردار ادا کیا تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق تینوں افراد کو افغانستان اور پاکستان میں واقع مختلف ٹھکانوں پر 7 ماہ سے زائد عرصے تک قید رکھا گیا۔
اغوا کاروں نے رہائی کے بدلے تاوان اور متعدد طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق دورانِ قید مغویوں کو “زندہ ہونے کے ثبوت” کے طور پر ویڈیوز ریکارڈ کرنے پر مجبور کیا گیا، جن میں طالبان جنگجو انہیں ہتھیاروں کے ساتھ دھمکاتے رہے۔
حاجی نجیب اللہ 2007 میں وردک صوبے میں طالبان کمانڈر کے طور پر سرگرم رہے اور امریکی حکام کے مطابق وہ امریکی افواج پر حملوں میں بھی ملوث تھے۔
رپورٹس کے مطابق حاجی نجیب اللہ کو اکتوبر 2020 میں یوکرین سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انہیں مقدمے کے لیے امریکا منتقل کیا گیا۔
ڈیوڈ روہڈ اُس وقت معروف امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کے لیے کام کر رہے تھے۔ وہ اور ان کے مترجم بعد ازاں 7 ماہ کی قید کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔