World

بلفاسٹ،سوڈانی پناہ گزین کے حملے کے بعد پرتشدداحتجاج، گھر،گاڑیاں نذرآتش

بلفاسٹ،سوڈانی پناہ گزین کے حملے کے بعد پرتشدداحتجاج، گھر،گاڑیاں نذرآتش
۱۴ گھنٹے پہلے

بلفاسٹ میں ایک مبینہ چاقو حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر ہونے والے احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد گھروں، گاڑیوں اور دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔

 

تفصیلات کے مطابق 30 سالہ سوڈانی شخص کے شمالی بلفاسٹ میں ایک مقامی شہری پر چاقو سے حملے کا الزام ہے، جس میں متاثرہ شخص کو چہرے، گردن اور کمر پر شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

 

حملہ آور کو موقع پر موجود افراد نے قابو کر کے پولیس کے حوالے کیا، جس پر قتل کی کوشش، چاقو رکھنے اور قتل کی دھمکی دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے اور اس کی پناہ گزین حیثیت سے متعلق بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

 

واقعے کے بعد ہونے والے احتجاج میں صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب مشتعل افراد نے گھروں کو آگ لگا دی۔ متاثرہ علاقوں سے بچوں سمیت خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

 

پرتشدد کارروائیوں کے دوران پولیس کی گاڑی اور ایک بس کو بھی آگ لگا دی گئی، جبکہ ایک ترک باربر شاپ اور مشرق وسطیٰ سے منسلک ایک سپر مارکیٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

 

شمالی آئرلینڈ کی پہلی وزیر مشیل او’نیل نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نقاب پوش افراد کا گھروں کو جلانا بزدلی ہے اور یہ عمل کسی بھی صورت میں کمیونٹی کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ یہ سراسر غنڈہ گردی ہے۔

 

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واقعے کو “ہولناک اور تشویشناک” قرار دیتے ہوئے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

 

پولیس نے صورتحال کو “کریٹیکل انسیڈنٹ” قرار دیتے ہوئے شہر بھر میں سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

 

متاثرہ شخص اسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق احتجاجی واقعات کو نسلی منافرت اور پناہ گزین مخالف جذبات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں