سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس: سپریم کورٹ نے رحمان بھولا ،زبیر چریا کو بری کر دیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کی اپیلیں منظور کر لیں۔
جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ایم کیو ایم کی جانب سے ریمارکس حذف کرنے کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ فیصلہ ہی کالعدم ہو چکا ہے اس لیے ریمارکس ازخود ختم ہو جاتے ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جبکہ مقدمے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرنے کا عندیہ دیا۔ عدالت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو فریق بنانے کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ زیادہ فریقین ہونے کی صورت میں مقدمے کی سماعت غیر ضروری طور پر پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ کے مشاہدات اور مختلف قانونی نکات پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ زبیر عرف چریا کا اعترافی بیان موجود تھا جبکہ عبدالرحمان عرف بھولا کا ایسا کوئی بیان ریکارڈ پر موجود نہیں تھا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اگر بعض الزامات سیاسی جماعت سے متعلق تھے تو دیگر افراد کی بریت کو چیلنج کیوں نہیں کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کا مقدمہ متعدد پہلوؤں سے کمزور تھا۔ جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ اگر مقصد صرف بھتہ لینا تھا تو مزدوروں کو قتل کرنے کا جواز کیا بنتا ہے۔
یاد رہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن 11 ستمبر 2012 کو پیش آیا تھا، جس میں فیکٹری میں آگ لگنے سے 259 افراد جاں بحق جبکہ 59 زخمی ہوئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔