چیلنجز کے باوجود معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، شرح نمو 3.7 فیصد رہی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اقتصادی سروے کسی بھی مالی سال کی مجموعی معاشی کارکردگی کا عکاس ہوتا ہے اور پاکستان نے اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود رواں مالی سال میں بہتر معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں اقتصادی سروے 2025-26 پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال کے آغاز میں ملک کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا۔ مون سون کی شدید بارشوں نے معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کیا جبکہ عالمی سطح پر بھی غیر معمولی حالات پیدا ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ کے باعث عالمی تجارتی ماحول میں بے یقینی پیدا ہوئی، جس کے اثرات بین الاقوامی معیشتوں پر بھی مرتب ہوئے۔ تاہم حکومت نے بروقت اقدامات کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا اور معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن رکھا۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت مختلف بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی اور اندرونی و بیرونی دباؤ کے باوجود قومی معیشت نے مثبت اشاریے دکھائے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران ملکی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی، جو مشکل معاشی حالات کے باوجود ایک حوصلہ افزا پیشرفت ہے۔ توقع تھی کہ شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی و تجارتی کشیدگی کے باوجود پاکستان کی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا۔ اقتصادی سروے میں مختلف شعبوں کی کارکردگی، حکومتی پالیسیوں کے نتائج اور مستقبل کی معاشی سمت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور مختلف جغرافیائی و تجارتی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا اور اہم اقتصادی اشاریوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ فی کس آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔ ملکی جی ڈی پی کی مالیت 126.9 کھرب روپے ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے نے 2.89 فیصد نمو حاصل کی، صنعتی شعبہ 3.51 فیصد اور خدمات کا شعبہ 4.09 فیصد بڑھا۔ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں 6.11 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔
کرنٹ اکاؤنٹ جولائی تا مارچ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا جبکہ ترسیلات زر 8.2 فیصد اضافے کے ساتھ 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
زرعی شعبے میں ڈیری اور لائیو اسٹاک کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے، جبکہ مجموعی زرعی نمو 2.89 فیصد رہی۔ گنے، گندم اور چاول کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک آگیا اور بنیادی سرپلس 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی، صحت کے شعبے میں بھی بہتری دیکھی گئی جبکہ اوسط عمر 67.8 سال ہو گئی۔